resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: طلاق کا غیر محدود اختیار ملنے کے بعد بیوی کسی بھی وقت اپنے اوپر طلاق واقع کرسکتی ہے

(50312-No)

سوال: نکاح نامہ میں بیوی کو طلاقِ تفویض (طلاق کا غیر محدود اختیار) حاصل تھا، بیوی نے اپنے شوہر سے کہا: "اگر تم یہ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارو گے تو یہ آخری طلاق ہوگی۔" بیوی نے یہ بات اس لیے کہی کہ اس سے پہلے دونوں کے درمیان دو طلاقیں واقع ہو چکی تھیں اور دو مرتبہ تجدیدِ نکاح بھی ہو چکا تھا، شوہر کو بیوی کے اس بیان کا علم تھا، اس کے باوجود اس نے عید اپنے گھر والوں کے ساتھ گزاری۔ براہِ کرم یہ وضاحت فرمائیں کہ فقہِ حنفی کے مطابق اس صورت میں کیا تیسری طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟
تنقیح:
اپ کے سوال میں کچھ ابہام ہیں آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ نکاح نامہ میں کن الفاظ کے ساتھ بیوی کو طلاق کا اختیار دیا گیا تھا؟ یہ اختیار کونسے نکاح میں دیا گیا تھا پہلے، دوسرے یا تیسرے؟
جواب تنقیح:
بیوی کو بغیر کسی شرط کے طلاق کا اختیار دیا گیا تھا۔ یہ اختیار پہلے نکاح میں بھی دیا گیا تھا اور تجدیدِ نکاح کے وقت بھی برقرار رکھا گیا تھا۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کے بیان کے مطابق شوہر نے تیسری مرتبہ نکاح کرتے وقت بیوی کو تیسری طلاق کا غیر محدود (غیر مؤقت) اختیار دے دیا تھا، اس لیے بیوی کی طرف سے تعلیقِ طلاق کے بعد جب شوہر نے عید اپنے گھر والوں کے ساتھ گزاردی تو اس سے اس کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی، اب موجودہ صورتحال میں نہ تو رجوع ممکن ہے اور نہ ہی تجدیدِ نکاح ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے تو پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 230)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَo

صحیح البخاری: (2014/5، ط: دار ابن کثیر)
عن عائشة: أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول).

الھندیۃ: (273/1، ط: دارالفکر)
رجل تزوج امرأة على أنها طالق أو على أن أمرها في الطلاق بيدها ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الجامع أنه يجوز النكاح والطلاق باطل ولا يكون الأمر بيدها وقال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى -: هذا إذا بدأ الزوج فقال: تزوجتك على أنك طالق وإن ابتدأت المرأة فقالت: زوجت نفسي منك على أني طالق أو على أن يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كلما شئت فقال الزوج: قبلت؛ جاز النكاح ويقع الطلاق ويكون الأمر بيدها

الهداية: (1/ 242، ط: دار احياء التراث العربي)
ولو قال لها أنت طالق إذا شئت أو إذا ما شئت أو متى شئت أو متى ما شئت فردت الأمر لم يكن ردا ولا يقتصر على المجلس أما كلمة متى و متى ما فلأنهما للوقت وهي عامة في الأوقات كلها كأنه قال في أي وقت شئت فلا يقتصر على المجلس بالإجماع۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce