resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آڈیو کال (Audio Call) پر نکاح اور اس کے بعد دی گئی طلاق کا حکم

(50298-No)

سوال: تین سال پہلے میں اور میرے شوہر نے گھر والوں سے چھپ کر نکاح کیا کیونکہ وہ راضی نہیں ہو رہے تھے۔ نکاح ہم نے آن لائن کیا، اس طرح کہ میں اور میرے شوہر ایک ساتھ تھے جبکہ مولوی صاحب اور گواہ کال پر تھے۔ گواہ مولوی صاحب نے اپنی طرف سے بٹھائے تھے، ہم دونوں میں سے کوئی بھی انہیں نہیں جانتا تھا۔
نکاح آڈیو کال پر ہوا، پہلے میرے شوہر سے تین دفعہ "قبول ہے" کہلوایا گیا، پھر مجھ سے مولوی صاحب نے اجازت لی کہ وہاں کسی آدمی کو اجازت دو کہ وہ تمہارا ولی بنے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے ولی کہا تھا یا وکیل، لیکن مجھ سے اجازت مانگی گئی اور میں نے ہاں میں جواب دیا، پھر مجھ سے بھی تین دفعہ "قبول ہے" کہلوایا گیا اور میں نے تینوں دفعہ قبول کیا۔
اس کے بعد ہم نے یہ نکاح تین سال تک چھپا کر رکھا، ان تین سالوں میں ہم ملے بھی اور ازدواجی تعلقات بھی قائم کیے، مگر رخصتی نہیں ہوئی، ان تین سالوں میں میرے شوہر نے مجھے دو طلاقیں دیں جن کے بعد ہم نے رجوع کر لیا تھا۔ ایک طلاق اس وجہ سے ہوئی کہ میں جاب کرتی تھی اور میرے شوہر کو یہ پسند نہیں تھا۔ میں نے چھپ کر جاب شروع کی تھی اور جب انہیں پتا چلا تو انہوں نے طلاق دی۔ ایک طلاق اس سے پہلے بھی دی تھی۔
ابھی ایک طلاق انہوں نے شرط کے ساتھ رکھی کہ اگر تم دوبارہ جاب پر گئی تو خود بخود طلاق ہو جائے گی، لیکن اس کے بعد میں جاب پر نہیں گئی، اب تک ہم دونوں اس نکاح کو صحیح نکاح سمجھتے تھے، لیکن کچھ دن پہلے ایک مولوی صاحب سے رابطہ ہوا اور باتوں باتوں میں اس نکاح کا ذکر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ یہ نکاح فاسد ہے اور اس طرح نکاح ہوتا ہی نہیں۔
میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ نکاح واقعی فاسد ہے؟ اور اگر فاسد ہے تو کیا دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے؟ اور دوبارہ نکاح کی صورت میں کیا پہلے دی گئی طلاقیں شمار ہوں گی؟
تنقیح:
محترمہ! اس بات کی وضاحت کردیں کہ نکاح خواں نے اپنے ہاں شوہر کی طرف سے کسی شخص کو وکیل مقرر کرکے اس کے ذریعے شوہر کی جانب سے ایجاب کروایا تھا، یا موبائل فون کے ذریعے براہِ راست شوہر سے ایجاب کروایا تھا؟ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
جواب تنقیح:
میرے شوہر نے خود تین بار "قبول ہے" کہا۔ ان کی طرف سے کوئی نمائندہ (وکیل) مقرر نہیں کیا گیا۔

جواب: نکاح کے صحیح ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیلوں کا شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں شوہر کی طرف سے "قبول" اس طریقے کے مطابق نہیں پایا گیا ہے، کیونکہ شوہر اور گواہ دونوں الگ الگ مجلس میں موجود تھے، اس لیے یہ نکاح کالعدم شمار ہوگا اور اس کے بعد دی گئی طلاقوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
لہٰذا اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو شریعت کے مطابق گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایک ہی مجلس میں نکاح کے لیے ایجاب و قبول کرلیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔

بدائع الصنائع: (231/2، ط: دار الكتب العلمية)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.

و فيه أيضاً: (247/2، ط: دار الکتب العلمیة)
"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah