سوال:
ایک عاقلہ بالغہ لڑکی نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر ایک لڑکے سے نکاح کیا، اور یہ نکاح کفو (برابری) میں ہوا تھا۔ نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ اور حقوقِ زوجیت (ہم بستری) بھی ادا ہوئے، یعنی عورت مدخول بہا تھی۔ کچھ عرصے بعد اختلافات کی بنا پر شوہر نے درج ذیل طریقے سے طلاقیں دیں: (۱) پہلے شوہر نے اپنے پورے ہوش وحواس میں فون پر تین طلاقیں دیں۔ (۲) دو دن بعد وائس میسج میں دوبارہ تین طلاقیں دیں۔ (۳) تقریباً ایک ماہ بعد دونوں نے تنہائی میں زبانی طور پر آپس میں صلح کر لی، شوہر نے معافی مانگی اور ایک ماہ تک لڑکی کے گھر رہ کر ازدواجی تعلقات بھی قائم کیے۔ (۴) اس واقعے کے چھ ماہ بعد شوہر نے دوبارہ فون پر تین طلاقیں دیں۔
اب شوہر کو سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی کی حدیث (جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے) ملی ہے، جس کی بنیاد پر وہ یہ گمان کر رہا ہے کہ چونکہ پہلا نکاح ہی باطل تھا، اس لیے دی گئی طلاقیں واقع نہیں ہوئیں۔ لہٰذا وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرکے، اب ایک برسرِ روزگار اور نیک شخص کی حیثیت سے اسی لڑکی کے ساتھ اس کے ولی کی مکمل رضامندی، نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں ازسرِ نو نکاح کرنا چاہتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
۱) کیا مذکورہ حدیث کی روشنی میں پہلا نکاح باطل قرار پائے گا اور دی گئی طلاقیں غیر مؤثر شمار ہوں گی؟
۲) کیا حلالہ شرعیہ کے بغیر لڑکی کے ولی کی اجازت، نئے مہر اور نئے گواہوں کے ساتھ ان دونوں کا دوبارہ نکاح کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب: فقہِ حنفی کی رو سے اگر کوئی عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح کفو (ہم پلہ/برابری) میں خود کر لیتی ہے تو وہ نکاح شرعاً مکمل طور پر منعقد اور درست ہو جاتا ہے، خواہ اس میں ولی کی اجازت شامل ہو یا نہ ہو۔ سائل نے سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی کی جس حدیثِ مبارکہ (أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ) کا حوالہ دیا ہے، ائمہ احناف اور فقہاءِ کرام کی تشریح کے مطابق یہ حدیث ان عورتوں پر محمول ہے جو نابالغ ہوں یامجنونہ ہوں، جبکہ بالغہ اور عاقلہ عورت کا کفو میں کیا گیا نکاح بالکل صحیح اور نافذ ہے، اس حدیث کی اوربھی توجیہات ہیں ، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پہلا نکاح شرعاً منعقد ہو چکا تھا اور دونوں شرعی طور پر میاں بیوی تھے۔
چونکہ نکاح شرعاً درست تھا، اس لیے شوہر کو طلاق دینے کا اختیار حاصل تھا اور جب شوہر نے پہلی مرتبہ ہی فون پر صریح الفاظ میں ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو اسی وقت عورت پر تین طلاقِ مغلّظہ واقع ہو گئیں اور نکاح کا رشتہ فوری اور حتمی طور پر ختم ہو گیا۔
تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد میاں بیوی کا رشتہ مکمل طور پر منقطع ہو جاتا ہے اور رجوع کا کوئی شرعی حق باقی نہیں رہتا، لہٰذا ایک ماہ بعد کی گئی زبانی صلح اور اس کے بعد قائم کیے گئے ازدواجی تعلّقات (ہم بستری) شرعاً ناجائز اور سخت گناہ تھے، جن پر دونوں کے لیے سچی توبہ اور استغفار لازم ہے، نیز چونکہ پہلی ہی مرتبہ میں تین طلاقیں واقع ہو کر عورت مکمل اجنبیہ ہو چکی تھی، اس لیے بعد میں وائس میسج یا چھ ماہ بعد دی جانے والی مزید طلاقیں لغو اور غیر مؤثر ہیں اور ان سے پہلے سے واقع شدہ تین طلاقوں کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
شوہر کا احادیثِ مبارکہ سے براہِ راست اور خود ساختہ استدلال کر کے طلاقوں کو غیر مؤثر سمجھنا فقہِ اسلامی کے اصولوں کے خلاف اور درست نہیں، کیونکہ تین طلاقِ مغلّظہ واقع ہو جانے کے بعد یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے قطعی طور پر حرام ہو چکے ہیں، لہٰذا محض توبہ کر لینے، ملازمت یا روزگار اختیار کر لینے، ولی کو راضی کر لینے یا نیا مہر مقرر کر دینے سے یہ حرمت ختم نہیں ہوگی، بلکہ ان دونوں کا آپس میں نکاح صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے باقاعدہ اور مستقل نکاح کرے، اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر وہ دوسرا شوہر بغیر کسی پیشگی شرط کے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا وفات پا جائے، اور اس کے بعد عورت اس دوسرے شوہر کی عدت بھی مکمل کر لے، تب جا کر وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی اور اس سے نیا نکاح کر سکے گی۔ اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں :
جواب ۱: جی نہیں، فقہ حنفی کی رو سے عاقلہ بالغہ لڑکی کا اپنے کفو (برابری) میں کیا گیا پہلا نکاح شرعاً بالکل درست اور منعقد تھا۔ مذکورحدیث کا وہ مطلب نہیں جو شوہرلے رہا ہے، لہٰذا اس نکاح کو باطل سمجھنا غلط ہے اور شوہر کی جانب سے دی گئی تینوں طلاقیں مکمل طور پر واقع اور مؤثر ہو چکی ہیں۔
جواب ۲: جی نہیں، چونکہ تین طلاقِ مغلظہ واقع ہو چکی ہیں، اس لیے یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے قطعی حرام ہو چکے ہیں۔ دوسرے نکاح کی شرائط پوری کیے بغیر محض ولی کی اجازت، نئے مہر اور نئے گواہوں کی بنیاد پر ان کا آپس میں دوبارہ نکاح کرنا شرعاً ہرگز جائز اور حلال نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*مشکوۃ المصابیح: ( ج2 ص 270، باب الولی فی النکاح ط:قدیمی کتب خانہ )*
عن ابن عباس ان النبی ﷺ قال الایم احق بنفسھا من ولیھا و البکر تستأذن فی اذنھا و اذنھا صماتھا .
*و فی حاشیتھا: ( ج2 ص270)*
و قولہ سبحانہ و لا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن فاضاف النکاح الی النساء و نھی عن منعھن منہ و ظاھرہ أن المرأۃ یصح ان ینکح نفسھا و کذا قولہ تعالی فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف فاباح سبحانہ فعلھا فی نفسھا من غیر شرط الولی الخ .
*الشامیة: (3/ 55، کتاب النکاح ، باب الولی، ط: سعید)*
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا.
*بدائع الصنائع: (2/ 247، کتاب النکاح، فصل: ولایة الندب والاستحباب في النکاح، ط: سعید )*
الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.
*الھندیة: (1/ 292، کتاب النکاح، الباب الخامس في الأکفاء فی النکاح، ط: رشیدیة)*
"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً، وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق. ولايكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلاينفسخ النكاح بينهما".
*البحر الرائق: (کتاب الصلاۃ،117/3، دار الكتاب الإسلامي)*
(نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي)۔۔۔ وأما ما رواه الترمذي وحسنه «أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل» .وما رواه أبو داود «لا نكاح إلا بولي» فضعيفان أو مختلف في صحتهما فلن يعارضا المتفق على صحته.
*مرقاۃ المفاتیح: (جلد5، صفحہ2061،2062، دار الفكر، بيروت)*
”قلت: المراد منه النكاح الذي لا يصح إلا بعقد ولي بالإجماع كعقد نكاح الصغيرة والمجنونة“ (مرقاۃ المفاتیح.
*شرح سنن ابن ماجه للسيوطي: (ص: 134 قديمي كتب خانة – كراتشي)*
هُوَ مَحْمُول على نفي الْكَمَال أَو يُقَال بِمُوجبِه فَإِن نِكَاح الْمَرْأَة الْعَاقِلَة تنْكح نَفسهَا كَنِكَاح بولِي وَالنِّكَاح بِغَيْر ولي إِنَّمَا هُوَ نِكَاح الْمَجْنُونَة وَالصَّغِيرَة إِذْ لَا ولَايَة لَهُم على أنفسهم وَتكلم على حَدِيث عَائِشَة بِأَنَّهُ رِوَايَة سُلَيْمَان بن مُوسَى قد ضعفه البُخَارِيّ وَقَالَ النَّسَائِيّ فِي حَدِيثه شَيْء وَقَالَ أَحْمد فِي رِوَايَة أبي طَالب حَدِيث عَائِشَة لَا نِكَاح الا بولِي لَيْسَ بِالْقَوِيّ وَقَالَ فِي رِوَايَة الْمروزِي لَا يَصح الحَدِيث عَن عَائِشَة لِأَنَّهَا زوجت بَنَات أَخِيهَا وَقد روى عَن الْقَاسِم قَالَ زوجت عَائِشَة بنت عبد الرَّحْمَن بن أبي بكر من بن الزبير عِنْد عدم عبد الرَّحْمَن فَأنْكر ذَلِك.
*العرف الشذي شرح سنن الترمذي: (2/ 363، دار التراث العربي -بيروت، لبنان)*
وأما ما في حديث عائشة فنكاحها باطل؛ فقيل: إنه على شرف البطلان وإن الباطل بمعنى مالا فائدة فيه: {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً} [آل عمران: 191] ألا كل شيء ما خلا الله باطل، ورجل بطال (بيكار) ، أو يقال: إن هذا الحديث فيما تزوجت بمهر أقل أو في غير كفئها.
*شرح سنن ابن ماجه للسيوطي وغيره: (ص: 135)*
فنكاحها بَاطِل قَالَ بن الْهمام الحَدِيث الْمَذْكُور وَنَحْوه معَارض لقَوْله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الايم أَحَق بِنَفسِهَا من وَليهَا رَوَاهُ مُسلم وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَمَالك فِي الْمُوَطَّأ وَابْن ماجة انْتهى قَالَ الْقَارِي فَخص هَذَا الحَدِيث فِيمَن نكحت غير الكفو وَفِي اللمعات وَيُؤَيّد مَذْهَب الْحَنَفِيَّة قَوْله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لما خطب أم سَلمَة قَالَت لَيْسَ أحد من أوليائي حَاضر قَالَ لَيْسَ من أوليائك حَاضرا وغائبا إِلَّا ويرضاني وَقَالَ لابنها عمر بن أبي سَلمَة وَكَانَ صَغِيرا قُم فزوج رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فزوج بِغَيْر ولي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا أَمر ابْنهَا بِالتَّزْوِيجِ على وَجه الملاعبة إِذْ قد نقل أهل الْعلم بالتاريخ انه كَانَ صَغِيرا قيل بن سِتّ وبالاجماع لَا يَصح ولَايَة مثل ذَلِك وَلِهَذَا قَالَ لَيْسَ أحد من اوليائي حَاضرا.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی