resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نومسلم خاتون کے لیے بچوں کی تربیت اور معاشی مسائل کا حل

(45182-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ایک مسلمان بہن ہوں اور امریکہ میں رہتی ہوں۔ اس سے پہلے میرا ایک غیر عملی (غیر متدین) عیسائی مرد کے ساتھ طویل تعلق رہا، جس سے میرے دو بچے ہیں: ایک 10 سالہ بیٹا اور ایک 3 سالہ بیٹی۔ بچوں کی جسمانی کفالت (Physical Custody) ہم دونوں کے درمیان 50/50 بنیاد پر تقسیم ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد میری شادی پاکستان میں رہنے والے ایک مسلمان شخص سے ہوئی۔ انہوں نے میرے پاس امریکہ آنے کے لیے IR1 ازدواجی ویزا کے لیے درخواست دی ہوئی ہے۔ کرنسی کے فرق اور مالی حالات کی وجہ سے وہ اس وقت امریکہ میں میرا مالی بوجھ اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ میرے ماہانہ اخراجات تقریباً 3500 ڈالر ہیں، جبکہ ان کی آمدنی پاکستان میں ایک اچھی زندگی کے لیے کافی ہے لیکن امریکی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہی میری شادی کی ایک اہم وجہ بھی تھی، کیونکہ میں اکیلے مالی طور پر شدید مشکلات کا شکار تھی۔
مجھے اس وقت چند سنگین مسائل کا سامنا ہے:
الف) میں دینِ اسلام کو صحیح طور پر سیکھنا اور دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں، لیکن ملازمت اور بچوں کی ذمہ داریوں کی وجہ سے یہاں اس کے لیے وقت اور موقع نہیں مل رہا۔
ب) بچوں کے والد غیر مسلم ہیں اور وہ بچوں کو دی جانے والی اسلامی تعلیمات کو کمزور یا ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے حال ہی میں میرے بیٹے کو ایک عیسائی مشنری سمر کیمپ میں داخل کروا دیا۔ میں بچوں کو اسلام، انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات، اچھی عادات اور مسجد سے وابستگی سکھانے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن جب وہ اپنے والد کے پاس جاتے ہیں تو ان پر اس کا الٹا اثر پڑتا ہے۔
ج) بچے میرے ساتھ بدتمیزی اور نافرمانی کرتے ہیں اور جذباتی طور پر اپنے والد سے زیادہ وابستہ ہیں۔
د) میری مسلسل کوششوں کے باوجود، موجودہ حالات میں ان کی اسلامی تربیت کرنا میرے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔
میرا شوہر اور میں اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ میں تقریباً ایک سال کے لیے بچوں کے بغیر پاکستان چلی جاؤں، تاکہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے دینی تعلیم حاصل کر سکوں اور اسی دوران ان کے IR1 ویزا کی منظوری کا انتظار بھی ہو جائے، تاکہ بعد میں وہ میرے ساتھ امریکہ آ سکیں۔ میرے سوالات درج ذیل ہیں:
1) کیا شریعت کی رو سے میرے لیے یہ جائز اور مناسب ہوگا کہ میں اپنے کم عمر بچوں، خصوصاً تین سالہ بیٹی، کو چھوڑ کر ایک سال کے لیے اکیلے پاکستان چلی جاؤں؟
2) بچوں کے غیر مسلم والد اور موجودہ کسٹڈی کے حالات میں، جبکہ بچوں کے دین کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، شریعت کی رو سے میرے لیے بہترین لائحہ عمل کیا ہے؟
3) کیا میرے لیے ایک سال کے لیے پاکستان جانا مناسب ہے یا اس کے علاوہ کوئی بہتر حل موجود ہے؟ میں آپ سے رہنمائی اور دعا کی درخواست کرتی ہوں۔

جواب: (1) موجودہ حالات اور بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں شرعاً آپ کے لیے اپنے بچوں کو غیر مسلم والد کے پاس چھوڑ کر ایک طویل مدت (ایک سال) کے لیے پاکستان جانا مناسب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں بچوں کے دین، عقائد اور اسلامی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس وقت آپ کی اوّلین ذمّہ داری اپنے بچوں کی دینی تربیت، ان کے ایمان کی حفاظت اور ان کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنا ہے۔
(2) بچوں کے ایمان کی حفاظت اور ان کی اسلامی پرورش ہی اس وقت آپ کا سب سے بڑا فریضہ اور عظیم دینی خدمت ہے، اس کے لیے آپ کو قانونی اور اخلاقی دونوں محاذوں پر درج ذیل لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے:
الف) قانونی حقوق کا استعمال: اگر آپ کے کسٹڈی ایگریمنٹ میں مذہبی تعلیم اور اہم فیصلوں سے متعلق کوئی شق موجود ہے تو اس کا بغور جائزہ لیں، چونکہ مشترکہ قانونی کسٹڈی (Joint Custody) کی صورت میں والدین کو مذہبی اور تعلیمی معاملات میں یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں، اس لیے اگر بچوں کو آپ کی رضامندی کے بغیر ایسے مذہبی پروگراموں یا کیمپوں (جیسے عیسائی مشنری کیمپ) میں بھیجا جا رہا ہے جو ان کے عقائد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تو فوراً کسی مستند فیملی لائر (Family Lawyer) سے قانونی مشورہ لیں۔
ب)تربیت اور تعلق: حسنِ اخلاق، نرمی اور بہترین اسلامی ماحول کے ذریعے بچوں کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں تاکہ ان پر پڑنے والے منفی اثرات کا ازالہ ہو سکے۔
(3) پاکستان جانے کا متبادل اور بہتر حل: آپ کے لیے پاکستان جانے کے بجائے یہیں رہ کر درج ذیل متبادل حل اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے:
الف)مالی مسائل کا حل:مالی مشکلات کے حل کے لیے مقامی مسلم کمیونٹی، مساجد، زکوٰۃ فنڈز اور فلاحی اداروں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں، اخراجات میں حتی المقدور کمی اور مناسب ذرائعِ آمدن اختیار کرنے سے بھی مالی بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ب)شوہر کا تعاون اور کردار: اگرچہ آپ کے موجودہ شوہر ویزا کے حصول کی وجہ سے آپ سے دور ہیں، لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں آپ کی بھرپور جذباتی، ذہنی، اخلاقی اور اپنی وسعت کے مطابق مالی معاونت کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ آپ سے مستقل رابطے میں رہیں اور آپ کے حوصلے کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ باہمی تعاون سے آپ کی تنہائی اور ذہنی دباؤ میں کمی آئے۔
ج)آن لائن دینی تعلیم: پاکستان جا کر تعلیم حاصل کرنے کے بجائے آن لائن دینی تعلیم اور مقامی مسلم کمیونٹی سے وابستگی کے ذریعے دین سیکھنے کی اپنی خواہش پوری کریں اور ساتھ ہی بچوں کی تربیت بھی جاری رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحيح البخاري: (100/2، ط: دار طوق النجاة)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «كل مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهودانه، أو ينصرانه، أو يمجسانه، كمثل البهيمة تنتج البهيمة هل ترى فيها جدعاء»

بدائع الصنائع: (104/7، ط: دار الكتب العلمية)
ولو أسلم أحد الأبوين في دار الحرب، فهو مسلم تبعا له؛ لأن الولد يتبع خير الأبوين دينا لما بينا.

القرآن الکریم : (التحریم، الاية: 6)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ... الخ

صحيح مسلم (1459/3، ط: دار إحياء التراث العربي)
عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «ألا كلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته، فالأمير الذي على الناس راع، وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته، وهو مسئول عنهم، والمرأة راعية على بيت بعلها وولده، وهي مسئولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسئول عنه، ألا فكلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته»،

مجلة الأحكام العدلية: (ص: 19، نور محمد)
(المادة 30) : درء المفاسد أولى من جلب المنافع.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah