سوال:
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میری بیوی کی خواہش ہے کہ روز یا ایک روز چھوڑ کر ازدواجی تعلق قائم کرے، جبکہ میں ہفتہ میں ایک بار چاہتا ہوں، اگر میں اس کی ضد کے باوجود اس کو منع کرتا ہوں تو میں گناہگار تو نہیں بنوں گا؟
جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہّرہ نے میاں بیوی کے درمیان ہم بستری کے لیے کوئی مخصوص مدّت یا تعداد مقرر نہیں کی، بلکہ شریعت نے اس معاملے کو میاں بیوی کی باہمی رضامندی اور ضرورت پر موقوف رکھا ہے۔
لہٰذا میاں بیوی باہمی رضامندی سے جب چاہیں ازدواجی تعلق قائم کر سکتے ہیں، اگر بیوی روزانہ یا ایک دن چھوڑ کر ہم بستری کا مطالبہ کرے اور شوہر اس کی قدرت رکھتا ہو تو مناسب یہی ہے کہ وہ بیوی کی اس خواہش کو پورا کرے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے، تاہم اگر شوہر روزانہ یا ایک دن چھوڑ کر ہم بستری نہ کرے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔
لیکن اگر بیوی کی رضامندی نہ ہو تو شوہر کے لیے چار مہینے یا اس سے زیادہ عرصہ تک ازدواجی تعلق ترک کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر بیوی اپنی رضامندی سے چار ماہ سے زیادہ عرصہ بھی ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے پر راضی ہو تو ایسی صورت میں شوہر گناہ گار نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار: (202/3،دار الفكر)*
ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحياناولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانا، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة. ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها نهر بحثا۔
*بدائع الصنائع: (كتاب النكاح، 331/2،ط: دار الكتب العلمية)*
وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی