سوال:
دولہے کی نانی کے انتقال کے دوسرے دن ولیمہ منسوخ یا مؤخر کرنے کی کیا صورت ہے یا پھر کیا صورت مناسب ہے؟
جواب: دولہے کی نانی کے انتقال کی وجہ سے ولیمہ کو دوسرے دن کرنا شرعاً ممنوع نہیں؛ البتہ چونکہ وفات بالکل قریب ہوئی ہے اور گھر والوں کو صدمہ ہے، اس لیے ان کے جذبات اور حالات کی رعایت کرنا مناسب ہے۔
لہٰذا اگر دلہا یا اس کے گھر والے شدید غم کی کیفیت میں ہوں تو ولیمہ کو چند دن کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے، البتہ صرف اس خیال سے کہ وفات کے بعد تین دن تک شادی یا ولیمہ کرنا شرعاً ناجائز ہے، ولیمہ مؤخر کرنا ضروری نہیں، شریعت میں عام میت پر تین دن کا سوگ جائز ہے، واجب نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح البخاري: (کتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها، رقم الحدیث: 1280، ط: دار طوق النجاۃ)
عن زينب بنت ابي سلمة , قالت:" لما جاء نعي ابي سفيان من الشام دعت ام حبيبة رضي الله عنها بصفرة في اليوم الثالث، فمسحت عارضيها وذراعيها , وقالت: إني كنت عن هذا لغنية لولا اني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا يحل لامراة تؤمن بالله واليوم الآخر ان تحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج فإنها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا".
الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل فی الحداد، 533/3، ط: سعيد)
"ويباح الحداد على قرابة ثلاثة أيام فقط.
(قوله: ويباح الحداد إلخ) أي حديث الصحيح «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوجها فإنها تحد أربعة أشهر وعشرا» فدل على حمله في الثلاث دون ما فوقها، وعليه حمل إطلاق محمد في النوادر عدم الحل كما أفاده في الفتح."
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی