سوال:
السلام علیکم، مجھے ایک نجی اور حساس مسئلے میں شرعی رہنمائی چاہیے۔ مہربانی کرکے میری صورتِ حال کو سمجھ کر مخصوص جواب دیں۔ میری ازدواجی زندگی میں میری جنسی ضرورت میرے شوہر سے زیادہ ہے، میرے شوہر کی دو شادیاں ہیں، جب وہ دوسری بیوی کے پاس سے آتے ہیں تو اکثر ان کی جنسی خواہش نہیں ہوتی اور وہ سونے کے وقت تک تھکے ہوئے ہوتے ہیں، میں ان پر زبردستی یا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتی اور نہ ہی روز اس بات پر ان سے بحث کرنا چاہتی ہوں، پہلے اس وجہ سے ہماری کئی بار لڑائی ہوچکی ہے اور اب میں اس بات کو بار بار دہرا کر انہیں ذہنی دباؤ میں نہیں ڈالنا چاہتی۔
میری اپنی ضرورت کبھی کبھی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ رات کو نیند نہیں آتی، جسم میں بے چینی ہوتی ہے اور وسوسے آتے ہیں، میں کسی غیر مرد کے بارے میں سوچنا یا کوئی حرام تعلق قائم کرنا بالکل نہیں چاہتی، میں اپنی شادی اور اپنے گھر کو بھی نہیں توڑنا چاہتی۔
میں یہ بھی پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر میرے شوہر مباشرت کے موڈ میں نہ ہوں تو کیا میں ان سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ سے میری جنسی ضرورت پوری کردیں؟ اگر وہ خود یہ نہیں کرنا چاہتے تو کیا میری اس ضرورت کی وجہ سے میرے لیے خود اپنے آپ کو فارغ کرنا (مشت زنی) کسی صورت میں جائز ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب مجھے زنا یا کسی حرام کام میں مبتلا ہونے کا خوف ہو؟
مجھے ایک اور جسمانی مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ جب میری جنسی ضرورت پوری نہیں ہوتی اور تحریک یا رطوبت کی کیفیت رہتی ہے تو اکثر مجھے خارش شروع ہوجاتی ہے، کبھی خارش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جلد اترنے لگتی ہے اور اندر درد بھی ہوتا ہے۔ میں حال ہی میں انفیکشن کی دوا دس دن تک لے چکی ہوں، اس وجہ سے بھی مجھے بہت تکلیف اور بے آرامی ہوتی ہے۔ مہربانی کرکے قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں بتائیں:
1) کیا شوہر پر شرعاً بیوی کی جنسی ضرورت پوری کرنا حق ہے؟
2) اگر شوہر کی اپنی خواہش نہ ہو تو کیا وہ کسی دوسرے جائز طریقے سے بیوی کو مطمئن کرسکتے ہیں؟
3) اگر شوہر یہ بھی نہ کرسکیں یا نہ کرنا چاہیں اور بیوی کو بہت شدید جنسی پریشانی ہو تو مشت زنی کا کیا حکم ہے؟ کیا ضرورت کی صورت میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟
4) اس صورتِ حال میں میرے لیے شرعاً کیا بہتر طریقہ ہے؟
جواب: 1) نکاح کے مقاصد میں عفت و پاکدامنی کی حفاظت اور باہمی استمتاع بھی شامل ہے، اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے جنسی حقوق کی حتی الامکان رعایت کرے اور بلا وجہ اس سے اعراض نہ کرے، تاہم ہر مرتبہ جماع کرنا شوہر پر اس طرح لازم نہیں کہ بیماری، شدید تھکن یا طبعی عدمِ رغبت کی حالت میں بھی اسے مجبور کیا جائے۔ اگر شوہر کی اپنی خواہش نہ ہو تو بیوی کی ضرورت اور عفت کے تحفظ کو سامنے رکھتے ہوئے باہمی رضامندی سے ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے بیوی کی جائز ضرورت پوری ہوسکے۔
2) شوہر کے لیے اپنی بیوی کے جسم سے، منہ اور دبر (پچھلی شرمگاہ) کے علاوہ، استمتاع کرنا جائز ہے، لہٰذا اگر شوہر کسی وقت جماع پر قادر یا آمادہ نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو اپنے ہاتھ یا جسم کے کسی دوسرے جائز طریقے سے جنسی تسکین پہنچا سکتا ہے، اس صورت میں بیوی کی ضرورت پوری کرنا نکاح کے مقاصد اور حسنِ معاشرت کے زیادہ قریب ہے، خصوصاً جب بیوی کو واقعی شدید حاجت ہو، البتہ یہ سب باہمی رضامندی اور محبت کے ساتھ ہونا چاہیے، جبر اور اذیت کے ساتھ نہیں۔
3) عورت کا اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا اصل حکم کے اعتبار سے جائز نہیں، البتہ فقہائے کرام نے ایسی شدید ضرورت کی صورت میں گنجائش ذکر کی ہے جب شہوت اس حد تک غالب ہوجائے کہ زنا یا کسی دوسرے حرام فعل میں مبتلا ہونے کا حقیقی اور قوی اندیشہ ہو، اور جائز طریقے سے اس ضرورت کو پورا کرنے کا کوئی راستہ میسر نہ ہو۔ ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت اس عمل کی گنجائش کی امید ہے، لیکن اسے معمول، عادت یا مستقل حل بنانا جائز نہیں، لہٰذا محض خواہش زیادہ ہونے یا وقتی بے چینی کی وجہ سے اس رخصت کو اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ پہلے شوہر سے جائز طریقے سے اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
4) آپ کی صورتِ حال میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ شوہر سے لڑائی یا الزام کے بجائے کسی مناسب اور پرسکون وقت میں اپنی ضرورت اور اس سے پیدا ہونے والی پریشانی کو نرمی سے بیان کریں، اور انہیں یہ سمجھائیں کہ اگر وہ اس وقت جماع کے لیے آمادہ نہیں تو کسی جائز متبادل طریقے سے آپ کی ضرورت پوری کردیں، چونکہ شوہر کی دو بیویاں ہیں، اس لیے دونوں کے حقوق اور باہمی ازدواجی ضروریات کی مناسب رعایت کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح آپ کو بھی شوہر کی طبعی تھکن اور حالات کا لحاظ کرتے ہوئے حکمت سے معاملہ کرنا چاہیے۔
رہی خارش، جلد اترنے، اندرونی درد اور رطوبت کی کیفیت تو اسے صرف جنسی ضرورت کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں، یہ کسی طبی بیماری، انفیکشن یا جلدی/نسوانی مسئلے کی علامت بھی ہوسکتی ہے، چونکہ آپ دس دن تک انفیکشن کی دوا استعمال کرچکی ہیں اور اس کے باوجود علامات موجود ہیں، اس لیے کسی مستند ماہرِ امراضِ نسواں سے دوبارہ معائنہ اور مناسب تشخیص کروانا ضروری ہے۔ اس مسئلے کو محض جنسی خواہش سے جوڑ کر علاج میں تاخیر نہ کی جائے۔
خلاصہ: شوہر کو بیوی کی جائز جنسی ضرورت اور عفت کا لحاظ کرنا چاہیے، جماع پر قدرت نہ ہو تو باہمی رضامندی سے دوسرے جائز طریقے سے بیوی کو تسکین دینا جائز ہے، عورت کا خود استمناء کرنا اصلًا ناجائز ہے، البتہ حقیقی اضطرار اور زنا میں مبتلا ہونے کے قوی اندیشے کی صورت میں فقہی گنجائش کا ذکر ملتا ہے، بشرطیکہ اسے عادت نہ بنایا جائے۔ آپ کی موجودہ جسمانی علامات کے لیے طبی معائنہ بھی ضروری ہے۔
...................................
الدلائل:
رد المحتار علی الدر المختار (كتاب النكاح، باب القسم، ج: 3، ص: 202، ط: دار الفكر – بيروت):
«(قَوْلُهُ: وَيَجِبُ أَنْ يُعِفَّهَا) كَذَا فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ عَنْ الْبَحْرِ، لَكِنْ لَا يُفْرَضُ عَلَيْهِ فِي الْقَضَاءِ فَوْقَ الْمَرَّةِ وَلَا يُؤَجَّلُ لَهُ كَالْعِنِّينِ كَمَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ الْوُجُوبُ دِيَانَةً لَا قَضَاءً؛ لِأَنَّ التَّحْصِينَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ، وَيَكْفِي فِي ذَلِكَ الْغَالِبُ مِنْ حَالِ الرَّجُلِ مَعَ حَالِ الْمَرْأَةِ.»
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (كتاب النكاح، باب القسم، ج: 3، ص: 215، ط: دار الكتاب الإسلامي):
«وَفِي الْفَتَاوَى السِّرَاجِيَّةِ: إذَا قَالَتْ لَا أَرْضَى حَتَّى تُجَامِعَنِي كُلَّ يَوْمٍ أَوْ كُلَّ طُهْرٍ لَيْسَ لَهَا ذَلِكَ، بَلْ عَلَيْهِ أَنْ يُجَامِعَهَا فِي كُلِّ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مَرَّةً؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى ضَرَبَ هَذِهِ الْمُدَّةَ لِلْمُولِي، وَعَلَيْهِ أَنْ يُعِفَّهَا دِيَانَةً؛ لِأَنَّهُ حَبَسَهَا عَلَى نَفْسِهِ.»
رد المحتار علی الدر المختار (كتاب الطلاق، باب الإيلاء، ج: 3، ص: 422، ط: دار الفكر – بيروت):
«(قَوْلُهُ لِأَنَّ لِلْمَرْأَةِ فِي الْوَطْءِ حَقًّا) صَرَّحَ بِهِ الْعُلَمَاءُ قَاطِبَةً، وَاسْتَدَلُّوا لَهُ بِمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» وَبِأَنَّ النِّكَاحَ إنَّمَا شُرِعَ لِمَصْلَحَةِ تَحْصِينِ النَّفْسِ وَدَفْعِ الضَّرَرِ عَنْهَا، وَذَلِكَ لَا يَحْصُلُ إلَّا بِالْوَطْءِ.»
الفتاوى الهندية (كتاب الكراهية، الباب الثامن في وطء الخادم وما يحل منها ومن الحرائر والعنين، ج: 5، ص: 327، ط: دار الفكر – بيروت):
«لِلرَّجُلِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ بِزَوْجَتِهِ بِجَمِيعِ بَدَنِهَا إلَّا الدُّبُرَ، وَكَذَا بِأَمَتِهِ الَّتِي تَحِلُّ لَهُ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ.»
رد المحتار علی الدر المختار (كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر واللمس، ج: 6، ص: 367، ط: دار الفكر – بيروت):
«وَفِي السِّرَاجِ: إنْ أَرَادَ بِالشَّهْوَةِ فُرُوجَهُنَّ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَإِلَّا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْظُرَ إلَى عَوْرَتِهِنَّ، وَمَعْنَاهُ أَنَّ الرَّجُلَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَنْظُرَ إلَى جَمِيعِ بَدَنِ زَوْجَتِهِ وَأَمَتِهِ الَّتِي تَحِلُّ لَهُ بِالشَّهْوَةِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَمَسَّ ذَلِكَ أَيْضًا؛ لِأَنَّ الْوَطْءَ حَلَالٌ فَمَا دُونَهُ أَوْلَى.»
رد المحتار علی الدر المختار (كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج: 2، ص: 399، ط: دار الفكر – بيروت):
«(قَوْلُهُ: وَكَذَا الِاسْتِمْنَاءُ بِالْكَفِّ) أَيْ فِي أَنَّهُ يُفْسِدُ لَكِنْ بِشَرْطِ الْإِنْزَالِ كَمَا يُعْلَمُ مِمَّا بَعْدَهُ، وَأَطْلَقَهُ فَشَمِلَ مَا إذَا كَانَ بِكَفِّهِ أَوْ كَفِّ غَيْرِهِ، وَلَوْ كَفَّ زَوْجَتِهِ أَوْ أَمَتِهِ لَا إشْكَالَ فِي عَدَمِ حُرْمَتِهِ، وَأَمَّا إذَا كَانَ بِكَفِّ نَفْسِهِ فَقَدْ نَقَلَ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ عَنْ النَّوَادِرِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا خَافَ الزِّنَا أَوْ أَرَادَ كَسْرَ شَهْوَتِهِ، وَفِي شَرْحِ الْوَهْبَانِيَّةِ لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ: سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْهُ فَقَالَ: هُوَ كَالْفَصْدِ يَعْنِي أَنَّهُ إخْرَاجُ فَضْلَةٍ مُؤْذِيَةٍ، وَحَاصِلُ مَا ذَكَرَهُ فِي النَّهْرِ أَنَّهُ يَحْرُمُ قَطْعًا لِغَيْرِ نَدَبٍ أَوْ مُبَاحٍ؛ فَلَوْ اسْتَجْلَبَ الشَّهْوَةَ لِيَقْضِيَهَا بِيَدِهِ فَهُوَ آثِمٌ، وَلَوْ فَعَلَهُ لِتَسْكِينِ الشَّهْوَةِ الْمُفْرِطَةِ الْغَالِبَةِ الَّتِي يَخَافُ مَعَهَا الزِّنَا رُجِيَ أَنْ لَا يَكُونَ عَلَيْهِ وِزْرٌ، وَأَمَّا لَوْ فَعَلَهُ لِإِدْرَاكِ غَرَضٍ فَمَكْرُوهٌ تَنْزِيهًا، وَهَذَا خَيْرٌ مِنْ إطْلَاقِ جَمَاعَةٍ بِالْكَرَاهَةِ، فَإِنَّ فِيهِ إيهَامَ أَنَّهَا تَنْزِيهِيَّةٌ مُطْلَقًا، أَوْ تَحْرِيمِيَّةٌ مُطْلَقًا، مَعَ أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ بِالْأَوَّلِ، وَلَا بِالثَّانِي فِي جَمِيعِ الصُّوَرِ كَمَا لَا يَخْفَى.»
فتح القدیر للعاجز الفقیر (كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة، ج: 2، ص: 341، ط: دار الفكر – بيروت(:
«وَلَوْ أَرَادَ بِذَلِكَ تَسْكِينَ شَهْوَتِهِ الْمُفْرِطَةِ الْغَالِبَةِ لِيَكْسِرَهَا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ زَوْجَةٌ وَلَا أَمَةٌ أَوْ كَانَ لَهُ لَكِنْ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْوُصُولِ إلَيْهَا يَنْبَغِي أَنْ يَجُوزَ لَهُ، وَفِي النَّوَادِرِ عَنْ أَحْمَدَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إنَّهُ كَالْفَصْدِ، وَعَنْهُ: إذَا خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الزِّنَا أَوْ النَّظَرَ الْمُحَرَّمَ فَلَا بَأْسَ بِهِ.»
الأشباه والنظائر لابن نجيم (الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة الخامسة: الضرر يزال، ص: 75، ط: دار الكتب العلمية – بيروت:)
«يُخْتَارُ أَهْوَنُ الشَّرَّيْنِ، وَأَخَفُّ الضَّرَرَيْنِ، إذَا تَعَارَضَتْ مَفْسَدَتَانِ رُوعِيَ أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا.»
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی