resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: ناپسندیدہ رشتے سے انکار کرنے پر لڑکی کو ڈانٹنے اور نکاح کے معاملے میں اس کی رضامندی کی شرعی حیثیت

(68271-No)

سوال: مجھے واقعی آپ کے مخلصانہ مشورے کی ضرورت ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ آپ میری صورتِ حال کو بغیر کسی تنقید کے سمجھیں۔
میرے گھر والوں کے پاس ایک ہی شخص کی طرف سے تیسری مرتبہ رشتے کی پیشکش آئی ہے۔ پہلی مرتبہ بات میری وجہ سے ختم ہوئی تھی، جبکہ دوسری مرتبہ ان کی طرف سے بات ختم ہوئی تھی۔ اب تیسری مرتبہ دوبارہ رشتہ آیا ہے اور میں انکار کر رہی ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ مجھے وہ شخص پسند نہیں ہے اور میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن میرے گھر والے جذباتی دباؤ ڈال رہے ہیں اور بار بار انکار کرنے پر مجھے احساسِ جرم میں مبتلا کر رہے ہیں۔ وہ مجھے ایسا محسوس کراتے ہیں جیسے انکار کرکے میں کوئی غلط کام کر رہی ہوں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ تیسری مرتبہ رشتہ آیا ہے۔
اس کے علاوہ بھی میری شادی نہ کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ دوسری مرتبہ بات ختم ہونے کے بعد انہوں نے میرے بارے میں برا بھلا کہنا شروع کر دیا تھا، جس سے مجھے بہت تکلیف پہنچی۔ اس رویے نے مجھے ان کے میرے ساتھ برتاؤ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا اور میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا میں ایسے شخص کے ساتھ رشتہ قائم کرنا چاہوں گی جو میرے بارے میں اس طرح بات کرتا ہو؟
میں نے استخارہ بھی کیا ہے۔ پہلی دونوں مرتبہ استخارہ کرنے کے بعد مجھے بہت برا محسوس ہوا اور میرے ذہن میں منفی خیالات آنے لگے۔ میں ان احساسات کے بارے میں کوئی مفروضہ قائم نہیں کرنا چاہتی کہ ان کا کیا مطلب ہے، لیکن اس پورے معاملے میں مجھے ایسے احساسات کا تجربہ ہوا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ شادی ایک بہت بڑی ذمہ داری اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ میں اتنا بڑا فیصلہ صرف اپنے گھر والوں کو خوش کرنے کے لیے یا اس وجہ سے نہیں کرنا چاہتی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے اس شخص کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ اس فیصلے کے ساتھ زندگی مجھے گزارنی ہے، تو کیا میرے جذبات اور میری رضامندی بھی اہمیت نہیں رکھتے؟
میں آپ سے دیانت داری کے ساتھ پوچھنا چاہتی ہوں: کیا تیسری مرتبہ اس رشتے سے انکار کرنا غلط ہے، جبکہ میں جانتی ہوں کہ مجھے یہ شخص پسند نہیں؟ کیا اپنے فیصلے پر قائم رہنا خود غرضی ہے، یا گھر والوں کے اختلاف کے باوجود انکار کرنا درست ہے؟
براہِ کرم مجھے اپنی مخلصانہ رائے دیں۔ مجھے صرف تسلی دینے کے لیے ایسی باتیں نہیں چاہییں جن سے مجھے وقتی طور پر اچھا محسوس ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ کوئی میری صورتِ حال کو سمجھے اور مجھے بتائے کہ کیا اپنی مرضی کے خلاف کسی سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرکے میں غلط کر رہی ہوں؟

جواب: واضح رہے کہ نکاح ایک اہم اور عمر بھر کا معاملہ ہے، اس لیے اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضامندی اور دلی اطمینان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے عاقلہ بالغہ لڑکی کو نکاح کے معاملے میں اپنی پسند و ناپسند کے اظہار اور انکار کا حق دیا ہے، لہٰذا اگر کسی لڑکی کو کوئی رشتہ پسند نہ ہو اور وہ اس شخص سے شادی کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اسے انکار کرنے کا پورا حق حاصل ہے، خواہ وہ رشتہ پہلی مرتبہ آیا ہو یا متعدد مرتبہ۔ محض اس وجہ سے کہ ایک ہی شخص کی طرف سے تیسری مرتبہ رشتہ آیا ہے، لڑکی پر اسے قبول کرنا لازم نہیں ہے اور نہ ہی انکار کرنے کی وجہ سے وہ خود غرض یا گناہ گار ہوگی۔
پوچھی گئی صورت میں جب آپ مذکورہ شخص کو پسند نہیں کرتیں اور اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے پر دلی طور پر آمادہ نہیں ہیں تو آپ اس رشتے سے انکار کرنے میں حق بجانب ہیں، لہٰذا آپ اپنے فیصلے پر قائم رہ سکتی ہیں، البتہ والدین کے ساتھ گفتگو میں ادب و احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور انہیں حکمت و نرمی سے سمجھائیں کہ نکاح آپ کی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ نیز والدین کو بھی چاہیے کہ آپ کی رضامندی اور دلی اطمینان کا لحاظ کریں اور آپ پر کسی قسم کا جذباتی دباؤ نہ ڈالیں۔
تاہم والدین کی رضامندی اور مشورے سے نکاح کرنا خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی مناسب رشتہ آجائے اور والدین بھی اس پر راضی ہوں تو محض ضد یا بے جا اصرار کی بنا پر بغیر کسی معقول وجہ کے اسے رد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ والدین کے مشورے کو اہمیت دیتے ہوئے خوب غور و فکر اور مشاورت کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الھندیۃ: (269/1، ط: دار الفکر)*
(ومنها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا، كذا في فتاوى قاضي خان

*بدائع الصنائع: (242/2، ط: دار الکتب العلمیۃ)*
وعلى هذا يبتنى أن الأب والجد لا يملكان إنكاح البكر البالغة بغير رضاها عندنا۔۔۔۔۔۔۔أن الثيب البالغة لا تزوج إلا برضاها فكذا البكر البالغة

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah