سوال:
میں نے کچھ عرصے پہلے کسی سے پوچھا تھا کہ اگر کوئی بغیر گواہوں کے نکاح کرے اور بعد میں شک ہو کہ کسی نے سن لیا ہو تو جواب ملا کہ اس طرح شک سے نکاح نہیں ہوتا۔
جبکہ پوری بات یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکی کسی دوسری لڑکی سے پوچھے کہ کیا تمہیں فلاح لڑکے سے نکاح قبول ہے اور اس وقت نہ تو لڑکا موجود ہو اور نہ ہی لڑکے سے پوچھا ہو اور نہ ہی کوئی گواہ موجود ہو، لیکن بعد میں شک ہو کہ شاید کسی نے سن لیا ہو اور شاید لڑکے سے ایجاب و قبول کروالیا ہو لیکن اس بات کا کوئی علم نہیں ہو صرف شک ہو تو کیا اس طرح نکاح درست ہے اور اگر بعد میں لڑکی کسی اور سے تمام شرائط کے ساتھ نکاح کرے تو کیا یہ دوسرا نکاح درست ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے مجلسِ نکاح میں لڑکا اور لڑکی یا ان کے وکیل کا ایجاب و قبول کرنا اور دو گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اس مجلس میں نہ لڑکا موجود تھا، نہ اس کا وکیل، اور نہ ہی کوئی گواہ، اس لیے یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا۔ اب بعد میں محض اس شک کی بنا پر کہ شاید کسی نے سن لیا ہو، یا لڑکے نے قبول کر لیا ہو، نکاح کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
لہٰذا اگر لڑکی بعد میں کسی اور شخص سے تمام شرعی شرائط کے ساتھ نکاح کرے تو وہ نکاح درست ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
«الهداية في شرح بداية المبتدي»: (1/ 185، ط: دار احیاء التراث العربي)
قال: "النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي" ... قال: "ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف" قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام "لا نكاح إلا بشهود"
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی