سوال:
اگر ایک شادی شدہ لڑکی اپنے بھائی سے نکاح کرے، جو اس کی والدہ کے پہلے شوہر کا بیٹا ہو، اور ان دونوں نے ایک ہی عورت کا دودھ بھی پیا ہو تو کیا ان کا نکاح ہو جائے گا؟ نیز اس صورت میں لڑکی کے پہلے نکاح کا کیا حکم ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ جس طرح نسبی بھائی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح رضاعی بھائی سے بھی نکاح جائز نہیں ہے۔ نیز جب تک کوئی عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو، اس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا ناجائز ہے۔ دوسرا نکاح صرف اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے جب پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے یا اس کی طرف سے طلاق ہو جائے اور عورت کی عدت بھی گزر جائے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں دوسرا شخص اس عورت کا رضاعی بھائی ہے اور عورت پہلے سے ایک شخص کے نکاح میں بھی ہے، اس لیے اس کے لیے کسی دوسرے مرد (رضاعی بھائی) سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا اس دوسرے نکاح کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندية: (1/ 277، ط: دارالفکر)
(القسم الثالث المحرمات بالرضاع) . كل من تحرم بالقرابة والصهرية تحرم بالرضاع على ما عرف في كتاب الرضاع، كذا في محيط السرخسي
بدائع الصنائع :(2/ 268، ط: دار الكتب العلمية)
وَمِنْهَا أَنْ لَا تَكُونَ مَنْكُوحَةَ الْغَيْرِ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [النساء: ٢٤] مَعْطُوفًا عَلَى قَوْلِهِ: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ﴾ [النساء: ٢٣] إلَى قَوْلِهِ: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [النساء: ٢٤] وَهُنَّ ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ ۔
حاشية ابن عابدین : (3/ 132، ط: دارالفكر)
أَمَّا نِكَاحُ مَنْكُوحَةِ الْغَيْرِ وَمُعْتَدَّتِهِ فَالدُّخُولُ فِيهِ لَا يُوجِبُ الْعِدَّةَ إنْ عُلِمَ أَنَّهَا لِلْغَيْرِ لِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ بِجَوَازِهِ فَلَمْ يَنْعَقِدْ أَصْلًا.
الفتاوی الهندية: (1/ 280، ط: دار الفكر)
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی