سوال:
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو دو سال ہو گئے ہیں، میرے سسر میرے حقیقی تایا بھی ہیں،میرے سسر مجھ سے بہت بے تکلف ہونے لگے تھے، وہ کہتے تھے کہ میں تمہارے باپ، دوست اور شوہر کی جگہ ہوں، چہرے پر بوسہ دیتے اور کہتے کہ تم بیٹی جیسی ہو، کبھی بازو دباتے، کبھی پاؤں دبانے کو کہتے، جب گھر میں کوئی نہ ہوتا تو تنہائی میں مجھے گلے لگاتے۔
ایک دن صبح گھر پر کوئی نہیں تھا، انہوں نے اپنے کمرے میں بلایا اور مجھے سینے سے لگایا اور کہا کہ میرے اوپر آ کر بیٹھ جاؤ۔ میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں آپ کی بیٹی جیسی ہوں، آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ڈر گئے، میں نے یہ ساری بات اپنے شوہر کو بتائی تو انہوں نے ثبوت مانگا۔
اب سوال یہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر سسر بہو کو شہوت کی نظر سے چھوئے تو اس کا نکاح اپنے شوہر سے ٹوٹ جاتا ہے تو کیا ہمارا نکاح ٹوٹ گیا ہے؟ ہم دونوں میاں بیوی الگ نہیں ہونا چاہتے، اس صورت میں حرمتِ مصاہرت کا حکم کیا ہے؟ اور ہمارے نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر سسر نے شہوت کے ساتھ بلا کسی حائل کے ساتھ ہاتھ لگایا ہو، یا شہوت کے ساتھ ہاتھ لگاتے وقت درمیان میں کپڑا تھا مگر اس کے باوجود بدن کی حرارت محسوس ہوئی ہو، یا ہونٹوں پر بوسہ دیا ہو تو ان صورتوں میں حرمتِ مصاہرت واقع ہو جاتی ہے۔
البتہ گال پر بوسہ دینے میں علماء کے دو اقوال ہیں، راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر سسر گال پر بوسہ دینے میں شہوت کا انکار کرے اور اس عورت کا شوہر بھی اپنے والد کی تصدیق کرے تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ جن صورتوں میں حرمت کی بات کی گئی ہے اگر ان میں گواہ نہ ہوں تو شوہر پر حرمت کے مکمل ثبوت اور علیحدگی کے واجب ہونے کے لیے "شوہر کا بھی ان باتوں کی تصدیق کرنا" لازمی ہوگا، لہٰذا اگر شوہر ان باتوں کی تصدیق کر دے تو آپ اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے، دونوں کا ساتھ رہنا ناجائز ہے اور فوری علیحدگی کے ساتھ شوہر پر زبان سے الفاظِ متارکت (مثلاً: "میں نے تمہیں چھوڑ دیا") کہنا واجب ہے، لیکن جب تک شوہر تصدیق نہ کرے اور ثبوت طلب کرے، تب تک قضاءً ( عدالتی طور پر) اس پر متارکت لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر آپ کو خود سسر کے اس فعل اور شہوت کا قطعی یقین ہے تو آپ کے اپنے حق میں حرمت ثابت ہو جانے کی وجہ سے آپ کے لیے شوہر کو اپنے قریب آنے دینا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوی التاتار خانیة: (53/4، ط: زکریا)
وتثبت الحرمة بالتقبیل والمس والنظر إلی الفرج بشہوۃٍ
البحر الرائق: (107/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وأما إذا كان بحائل فإن وصلت حرارة البدن إلى يده تثبت الحرمة وإلا فلا.
الهندية: (275/1، ط: دار الفكر)
ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لاتثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة.
الدر المختار مع رد المحتار: (37/3، ط: دار الفکر)
(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم قاله الحدادي وفي الفتح يتراءى إلحاق الخدين بالفم.
(فی الشامیة)لأنه ينكر ثبوت الحرمة والقول للمنكر، وهذا ذكره في الذخيرة في المس لا في التقبيل كما فعل الشارح فإنه مخالف لما مشى عليه المصنف أو لا من أنه في التقبيل يفتى بالحرمة ما لم يظهر عدم الشهوة.
رد المحتار: (33/3، ط: الحلبي)
(قَوْلُهُ: وَأَصْلُ مَاسَّتِهِ) أَيْ بِشَهْوَةٍ قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَثُبُوتُ الْحُرْمَةِ بِلَمْسِهَا مَشْرُوطٌ بِأَنْ يُصَدِّقَهَا، وَيَقَعَ فِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ صِدْقُهَا وَعَلَى هَذَا يَنْبَغِي أَنْ يُقَالَ فِي مَسِّهِ إيَّاهَا لَا تَحْرُمُ عَلَى أَبِيهِ وَابْنِهِ إلَّا أَنْ يُصَدِّقَاهُ أَوْ يَغْلِبَ عَلَى ظَنِّهِمَا صِدْقُهُ، ثُمَّ رَأَيْت عَنْ أَبِي يُوسُفَ مَا يُفِيدُ ذَلِكَ. اه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: (107/3)
وَثُبُوتُ الْحُرْمَةِ بِلَمْسِهَا مَشْرُوطٌ بِأَنْ يُصَدِّقَهَا وَيَقَعَ فِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ صِدْقُهَا وَعَلَى هَذَا يَنْبَغِي أَنْ يُقَالَ فِي مَسِّهِ إيَّاهَا لَا تَحْرُمُ عَلَى أَبِيهِ وَابْنِهِ إلَّا أَنْ يُصَدِّقَهَا أَوْ يَغْلِبَ عَلَى ظَنِّهِ صِدْقُهَا ثُمَّ رَأَيْت عَنْ أَبِي يُوسُفَ مَا يُفِيدُ ذَلِكَ اه.
الفتاوى الهندية: (276/1، ط: دار الفکر)
وكان الشيخ الإمام الأجل ظهير الدين المرغيناني يفتي بالحرمة في القبلة في الفم والخد والرأس وإن كان على مقنعة وكان يقول لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة.
فتح القدير للكمال ابن الهمام: (73/4، ط: دار الفكر)
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه من نفسها إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی