resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: دو لڑکیوں کا مذاق میں نکاح کی رسم ادا کرنے کا حکم

(66243-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! مجھے ایک ضروری شرعی مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔ میں اور میری ایک سہیلی، ہم دونوں لڑکیاں ہیں۔ ہم نے کلاس میں مذاق کے طور پر نکاح جیسی ایک رسم ادا کی، ایک لڑکی نے مولوی کا کردار ادا کیا اور نکاح کے باقاعدہ الفاظ کہے، ہم دونوں نے تین مرتبہ ’’قبول ہے‘‘ کہا۔ کلاس کی کچھ لڑکیاں گواہ بھی تھیں اور ہم نے کاغذ پر اپنے پورے نام اور دستخط بھی کیے، یہ سب کچھ مذاق میں کیا گیا تھا۔
کیا اس صورت میں شرعاً ہمارا نکاح ہو گیا ہے؟ براہِ کرم دلائل کے ساتھ رہنمائی فرما دیں۔ میں ذاتی طور پر کسی سے یہ مسئلہ نہیں پوچھ سکتی، اس لیے آن لائن سوال کر رہی ہوں۔

جواب: واضح رہے کہ شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے مرد اور عورت کے درمیان نکاح کا انعقاد ضروری ہے، دو عورتوں کے درمیان نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا، کیونکہ عورت دوسری عورت سے نکاح نہیں کرسکتی۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ دونوں لڑکیوں کے درمیان شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا، نیز نکاح جیسے مقدس شرعی معاملے کو مذاق بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ دو مردوں یا دو عورتوں کا آپس میں نکاح کرنا ہم جنس پرستی کہلاتا ہے، جو کہ ایک غیر شرعی اور غیر فطری طریقہ ہے، شریعت میں ہم جنس پرستی حرام اور بہت بڑا گناہ ہے، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر اسی قبیح عمل کو اختیار کرنے کی وجہ سے عذاب آیا تھا، لہذا مذاق میں بھی اس قبیح عمل سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (سورة الروم، الایة:21)
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ

تفسير القرطبي:(سورہ اعراف، آیت نمبر80، 242/7، دار الکتب المصریۃ)
"ولوطا إذ قال لقومه أتأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين (80).
الثانية: قوله تعالى: (أتأتون الفاحشة) يعني إتيان الذكور. ذكرها الله باسم الفاحشة ليبين أنها زنى، كما قال الله تعالى:" ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشة «2» ".
روح البيان: (3/ 197، ط: دار الفکر)
أخصبت بانواع الثمار والحبوب فتوجه إليهم الناس من النواحي والأطراف لطلب المعروف فتأذوا من كثرة ورود الفقراء فعرض لهم إبليس فى صورة شيخ وقال ان فعلتم بهم كذا وكذا نجوتم منهم فابوا فلما الحّ الناس عليهم قصدوهم فاصابوا غلمانا صباحا فاخبثوا فاستحكم فيهم ذلك وكانوا لا ينكحون الا الغرباء وقال الكلبي أول من فعل به ذلك الفعل إبليس الخبيث حيث تمثل لهم فى صورة شاب جميل فدعاهم الى نفسه ثم عملوا ذلك العمل بكل من ورد عليهم من المرد قضاء لشهوتهم ودفعا لهجوم الناس عليهم وعاشوا بذلك العمل زمانا.

«شعب الإيمان»: (رقم الحدیث: 5464، 4/ 376، ط: دار الکتب العلمية)
عن واثلة بن الأسقع رفعه قال: سحاق النساء زنا بينهن.

«الموسوعة الفقهية الكويتية»: (24/ 251،ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
لا خلاف بين الفقهاء في أن السحاق حرام لقول النبي صلى الله عليه وسلم: السحاق زنى النساء بينهن. وقد عده ابن حجر من الكبائر.

«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي»: (7/ 5346، ط: دار الفکر)
والسحاق: (وهو فعل النساء بعضهن ببعض) حرام أيضاً

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah