سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! مجھے نکاح کے ایک اہم مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔ براہِ کرم میری پوری صورتِ حال پڑھ کر شرعی حکم بتا دیں۔
میں اور ایک لڑکا واٹس ایپ پر وائس نوٹس کے ذریعے بات کر رہے تھے، میری بہن نے لڑکے سے کہا: “آپ کا میری بہن زارا کے ساتھ نکاح کیا جاتا ہے، آپ کو قبول ہے یا نہیں؟” اس کے جواب میں لڑکے نے وائس نوٹ کے ذریعے تین مرتبہ “جی، قبول ہے” کہا۔
میں بھی اس وقت گفتگو میں موجود تھی، ہم دونوں مذاق نہیں کر رہے تھے بلکہ سنجیدگی سے ایک دوسرے سے نکاح کرنا چاہتے تھے اور دل سے ایک دوسرے کو شوہر اور بیوی مانتے ہیں، اس وقت میری بہن کے علاوہ کوئی دوسرا گواہ میرے علم میں نہیں تھا، البتہ مجھے معلوم نہیں کہ لڑکے کی طرف سے کوئی شخص اس کی بات سن رہا تھا یا نہیں۔ بعد میں میں نے اپنی والدہ کو بھی یہ بات بتا دی، اب ہم دونوں چاہتے ہیں کہ جب لڑکا بیرونِ ملک سے واپس آئے تو گھر والوں کے سامنے باقاعدہ نکاح کریں۔
کیا اس واقعے سے شرعاً ہمارا نکاح ہو گیا تھا یا نہیں؟ اگر پہلے نکاح کا حکم واضح نہ ہو تو کیا ہم واپسی پر اسی لڑکے سے باقاعدہ نکاح کر سکتے ہیں؟ ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ جزاکم اللہ خیرا!
جواب: سوال میں مذکورہ تفصیلات اگر درست ہیں تو یہ نکاح درست نہیں ہوا ہے، کیونکہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیل شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ساتھ بیٹھ کر ایجاب و قبول کریں، جبکہ پوچھی گئی صورت میں آپ دونوں کے درمیان ایجاب و قبول اس طریقے کے مطابق نہیں پایا گیا ہے، لہٰذا اگر آپ دونوں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیں تو اس کے لیے شرعی طریقے کے مطابق باقاعدہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی