سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب، میرا مسئلہ رضاعت اور نکاح کے متعلق ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واقعہ یہ ہے کہ جب میں شیر خوار تھا اور میری عمر دو سال سے کم تھی، ایک مرتبہ میری والدہ اور میری نانی (امی کی والدہ) دونوں سو رہی تھیں۔ میں خود نانی کے پاس گیا اور دودھ پینے کے لیے ان کے سینے کو زور سے پکڑا/کھینچا، جس سے نانی کی آنکھ کھل گئی۔ میری امی اور نانی کے مطابق دودھ نہیں آ رہا تھا تو میں نے کھینچا جس سے نانی کی آنکھ کھلی اب یہ معلوم نہیں کہ کھینچنے سے پہلے دودھ آیا تھا یا نہیں یا میں نے پہلے دودھ پیا تھا یا نہیں، اس وقت نہ میری والدہ نے اور نہ نانی نے یہ دیکھا کہ دودھ واقعی میرے منہ میں گیا، میں نے دودھ چوسا یا دودھ میرے حلق سے نیچے اترا۔ چونکہ میں نے نانی کے سینے کو دودھ پینے کے لیے پکڑا تھا، اس لیے میری والدہ اور نانی نے یہ سمجھ لیا کہ شاید میں نے دودھ پی لیا ہوگا۔
اب میری نانی کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس واقعے کے علاوہ کوئی دوسرا گواہ، تحریری ثبوت یا یقینی ذریعہ موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ میں نے واقعی نانی کا دودھ پیا تھا۔
میرا نکاح میری والدہ کے بھائی (میرے ماموں) کی بیٹی سے طے ہوا ہے۔
میرا سوال یہ ہے:
1. کیا صرف نانی کے سینے کو پکڑنے/کھینچنے اور دودھ پینے کی کوشش کرنے سے شرعی رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، جبکہ دودھ پینا یقینی طور پر معلوم نہ ہو؟
2. اگر صرف یہ معلوم ہو کہ بچہ سینے سے لگا تھا، لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ دودھ واقعی منہ میں گیا یا نہیں، تو کیا حکم ہے؟
3. کیا محض شک یا گمان کی بنیاد پر نانی کو رضاعی ماں قرار دیا جاسکتا ہے؟
4. اگر رضاعت ثابت نہ ہو تو کیا میرے ماموں کی بیٹی سے نکاح شرعاً جائز ہے؟
5. اگر اس واقعے کی وجہ سے نکاح میں شرعی حرمت ثابت ہوتی ہے تو براہ کرم واضح فرمائیں کہ اس حرمت کے ثابت ہونے کے لیے کس درجے کا یقین یا ثبوت ضروری ہے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً، والسلام
جواب: واضح رہے کہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لیے عورت کے دودھ کا بچے کے حلق میں اترنا ضروری ہے، اس کے بغیر حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق جب آپ کی والدہ اور نانی میں سے کسی کو بھی یہ یقین سے معلوم نہیں کہ نانی کا دودھ آپ کے حلق میں پہنچا تھا یا نہیں، بلکہ محض شک ہے تو اس شک کی بنیاد پر رضاعت ثابت نہیں ہوئی، اس لیے آپ کے لیے اپنے ماموں کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ نکاح کی حرمت کا کوئی دوسرا سبب موجود نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الأشباه والنظائر لابن نجيم: (ص: 47، ط: دار الكتب العلمية)
القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك. ودليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا: «إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا، أو يجد ريحا».
الدر المختار مع رد المحتار: (212/3، ط: دار الفکر)
(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية.
(قوله فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اه. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك.
ثم قال: والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی