resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مشترکہ خاندانی نظام میں بہو کی شرعی ذمہ داریاں اور الگ رہائش کا حکم

(64681-No)

سوال: السلام علیکم! مجھے اپنے گھر اور سسرال سے متعلق ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ میری صورتِ حال کو مکمل پڑھ کر قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔
میری شادی کو تقریباً ایک سال ہوا ہے۔ میرے سسرال میں مشترکہ خاندانی نظام ہے۔ میں پہلے تعلیم کے لیے ہاسٹل میں رہی ہوں اور میرے میکے میں بھی چھوٹا خاندانی نظام ہے، اس لیے مجھے اتنے بڑے گھر کے کام اور معمولات کی عادت نہیں ہے۔ میں اپنے گھر کے کام اور اپنے اخلاق کو بہتر کرنا چاہتی ہوں۔
میرے سسرال میں میری جٹھانی کے ساتھ شروع ہی سے کچھ غلط فہمیاں اور کشیدگی رہی ہے۔ ایک پرانے موقع پر میرے شوہر نے اپنی بھابھی کو ان کے بچے پر ہاتھ اٹھانے سے روکا تھا۔ اس بات پر ان دونوں کے درمیان بات بڑھ کر لڑائی کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ اس کے بعد سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری جٹھانی کا میرے ساتھ رویہ اچھا نہیں رہا۔
وہ مجھ سے بات نہیں کرتیں اور کئی مرتبہ اپنے بچوں کو بھی مجھ سے بات کرنے سے روکتی ہیں۔ میں اگر ان کے لیے محبت سے کپڑے یا کوئی چیز دوں تو وہ اسے استعمال نہیں کرتیں۔ میرے شوہر کی طرف سے بھی اگر ان کے لیے کھانا بھیجا یا بنوایا جائے تو وہ اسے نہیں کھاتیں۔ ان چیزوں کی وجہ سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں میرے لیے ناراضی ہے۔
اس کے ساتھ وہ اکثر مجھے طعنے دیتی ہیں، میرے کام میں نقص نکالتی ہیں اور کئی مرتبہ جب میں کچن یا گھر کا کوئی کام کرنے جاتی ہوں تو وہ خود وہ کام کرلیتی ہیں یا مجھے کہتی ہیں کہ ’’ہم کرلیں گے۔‘‘ اس وجہ سے کئی مرتبہ مجھے کام کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ کبھی میں کوئی کام شروع کروں تو بھی وہ اس میں مداخلت کرتی ہیں یا بعد میں اس میں کمی نکالتی ہیں۔
اس پوری صورتِ حال کی وجہ سے گھر کے کچھ لوگوں کے سامنے میری ایسی تصویر بن گئی ہے کہ میں کام نہیں کرنا چاہتی، سست ہوں یا گھر کے کام میں دل نہیں لگاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں کام کرنا چاہتی ہوں اور سیکھنا بھی چاہتی ہوں، لیکن جب بار بار مجھے روکا جائے، کام مجھ سے لے لیا جائے یا میرے کام میں نقص نکالا جائے تو مجھے کچن میں جانے اور کام شروع کرنے میں بہت جھجھک محسوس ہونے لگی ہے۔
میری ساس بھی کبھی کبھی میرے کام کی رفتار اور طریقۂ کار پر تبصرہ کرتی ہیں اور میری دوسری بہو سے میرا موازنہ ہوجاتا ہے۔ میں یہ بھی مانتی ہوں کہ مجھ سے غلطیاں ہوتی ہیں اور مجھے اپنی طرف سے جو کمیاں ہیں، انہیں دور کرنا چاہیے۔
میرے شوہر میری طرف سے تعاون کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی کام میری استطاعت سے باہر ہو تو میں خود کو زبردستی نہ تھکاؤں۔ لیکن میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے ان کے اپنے خاندان کے ساتھ تعلقات خراب ہوں۔
میرا اصل مقصد کسی کے خلاف شکایت کرنا نہیں ہے۔ میں صرف یہ سمجھنا چاہتی ہوں کہ اس صورتِ حال میں میری شرعی ذمہ داری کیا ہے اور مجھے کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
میرے سوالات:
1) اسلام میں بہو پر سسرال کے گھر کے کتنے کام شرعاً واجب ہیں؟ کیا بہو پر مشترکہ خاندانی نظام میں گھر کے تمام کام کرنا ضروری ہے؟
2) اگر بہو کام کرنا چاہتی ہو، لیکن اسے بار بار کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے، دوسرے لوگ اس کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیں، اور پھر اسی وجہ سے اسے کام نہ کرنے والی یا سست سمجھا جائے، تو ایسی بہو کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
3) اگر جٹھانی بات نہ کرے، اپنے بچوں کو بھی بات کرنے سے روکے، میرے دیے ہوئے کپڑے نہ پہنے اور میرے شوہر کی طرف سے دیا یا بھیجا ہوا کھانا نہ کھائے، تو اسلام کی روشنی میں مجھے اس صورتِ حال میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ کیا مجھے صلح کی کوشش کرتے رہنا چاہیے یا صرف ادب کے ساتھ فاصلہ رکھنا بھی درست ہے؟
4) اگر جٹھانی بار بار طعنے دے، کام میں مداخلت کرے اور نقص نکالے تو اسلام بہو کو کس طرح معاملہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے؟ کیا مجھے ہر بار جواب دینا چاہیے یا خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے؟
5) اگر سسرال میں رہنے کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہو تو کیا میں اپنے شوہر سے الگ رہائش کا مطالبہ کرسکتی ہوں؟ کیا ایسا کرنا بد اخلاقی یا نافرمانی شمار ہوگا؟
6) اگر شوہر اپنی بیوی کو الگ گھر دینے پر راضی ہو اور خاندان سے الگ رہنے کا فیصلہ کرے تو کیا بیوی اس وجہ سے گناہ گار ہوگی؟
7) ساس سسر کی عزت اور خدمت کی شرعی حدود کیا ہیں؟ اور بہو کے اپنے شرعی حقوق کیا ہیں؟
8) اگر گھر کے ماحول میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہیں تو کیا کم بولنا، غیر ضروری بحث سے بچنا اور اپنے کمرے میں رہنا بد اخلاقی شمار ہوگا؟
9) میں اپنی ساس کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ اسلام کے مطابق میں عملی طور پر اپنے اخلاق اور رویے کو کس طرح بہتر کرسکتی ہوں؟
میں کسی کے خلاف فتویٰ نہیں چاہتی۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ میری صورتِ حال کو دونوں طرف کے حقوق اور ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں اور رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کی صورت میں سارے گھر کے تمام کام کرنا شرعاً بہو پر لازم نہیں ہے، تاہم اپنے شوہر کی خدمت کرنا اخلاقی فرائض میں سے ہے، اور شوہر کی والدین کی خدمت کرنا لازم نہیں ہے، تاہم یہ بڑی سعادت کی بات ہے، البتہ اپنے اور شوہر کے سب رشتے داروں کے ساتھ ادب و احترام اور حسنِ سلوک سے پیش آنا اور حسبِ استطاعت تعاون کرنا بہتر اور باعثِ ثواب ہے۔
اس وضاحت کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں:
1 تا 3) پوچھی گئی صورت میں آپ کو چاہیے کہ اپنی طرف سے حُسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں، گھریلو کام سیکھنے اور انجام دینے کی کوشش کریں اور غیر ضروری بحث و تکرار سے اجتناب کریں۔ اگر جٹھانی کے رویے سے تکلیف پہنچتی ہو تو ان کے ساتھ سلام دعا اور حُسنِ سلوک برقرار رکھتے ہوئے مناسب فاصلہ رکھ سکتی ہیں۔
4) ہر تنقید اور طعنہ کا جواب دینا ضروری نہیں، بلکہ خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے، البتہ ضرورت کے وقت نرمی اور حِکمت کے ساتھ اپنی بات واضح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
5 تا 8) بیوی کے لیے شرعاً ایسے علیحدہ کمرہ کا مطالبہ کرنا درست ہے جس میں اس کی خلوت اور ضروریات کا مناسب انتظام ہو، اور عرف کے مطابق بیت الخلاء اور باورچی خانہ کی سہولت موجود ہو۔ بالکل الگ گھر کا مطالبہ عام حالات میں درست نہیں ہے۔
تاہم اگر صورتِ حال ایسی ہو کہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا بہت زیادہ مشکل کا باعث ہو رہا ہو، اور ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا ہو اور حقوق کی پامالی کا ذریعہ ہو تو ایسی صورت میں علیحدہ رہائش کا مطالبہ کرنے کی بھی گنجائش ہے، ایسی صورت میں اگر شوہر اپنی استطاعت کے مطابق الگ رہائش کا انتظام کردے تو اس سے آپ گناہ گار یا نافرمان نہیں ہوں گی، البتہ شوہر کو اپنے والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔
اس سے متعلق مزید تفصیل کے لیے دارالافتاء الاخلاص کا تفصیلی فتویٰ درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=33499

9) اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے مشورے سے گھریلو معاملات کو حکمت اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں، اپنے اخلاق اور رویوں میں مزید بہتری لانے کے لیے رسول اللہﷺ کی سنتوں کو اپنانے کی کوشش کریں، جس میں درج ذیل دو اردو کتابوں کا مطالعہ بہت مفید ہے:
1.اسوہ رسول اکرمﷺ (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحب عارفیؒ)
2.علیکم بسنتی (مفتی عبدالحکم سکھرویؒ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

‏*الدر المختار مع رد المحتار: (2/ 704، ط: دار الفكر)*
‏ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي رضي الله عنه، والداخل على فاطمة رضي الله عنها، مع أنها سيدة نساء العالمين. بحر. ... امتنعت المرأة من الطحن والخبز إن كانت ممن لا تخدم أو كان بها علة فعليه أن يأتيها بطعام مهيأ، وإلا بأن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك لا يجب عليه، فيفتى به، ولكنها لا تجبر عليه إن أبت.

‏*الفتاوى الخانية على هامش الهندية: (1/ 443، ط: دار الفكر)*
‏وليس عليها أن تعمل بيدها شيئا لزوجها قضاء من الخبز والطبخ وكنس البيت وغير ذلك.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah