resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: زوجہ کے شدید جسمانی عیب، تدلیس اور خلوتِ فاسدہ کے بعد تنصیفِ مہر کا فقہی جائزہ

(64725-No)

سوال: محترم مفتی صاحب حفظہ اللہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں آپ کی خدمت میں اپنا معاملہ تفصیل سے پیش کر رہا ہوں تاکہ شرعی حکم واضح ہو سکے۔ میں صرف حقیقت بیان کر رہا ہوں۔
میرا نکاح تقریباً دو سال پہلے ہوا، شادی کو اب تقریباً 20 ماہ ہو چکے ہیں، نکاح سے پہلے ہمیں کسی قسم کے جسمانی عیب یا بیماری کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی، خاندان نے مکمل صحت مند لڑکی ہونے کا تاثر دیا، مہر کی رقم پانچ لاکھ روپےمقرر ہوئی تھی۔
نکاح کے بعد جب خلوت صحیحہ کی نوبت آئی تو پتہ چلا کہ بیوی کے خارجی اعضائے تناسل میں شدید نقص موجود ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے: لبیا مائنورا بالکل غائب ہیں، لبیا میجورا بھی موجود نہیں یا بہت شدید طور پر ناقص ہیں، کلیٹورس کا ہڈ (clitoral hood) غائب ہے اور کلیٹورس خود بھی ڈیفارمڈ ہے، پیشاب کی نالی کا منہ (urethral orifice) بمشکل پہچانا جاتا ہے، اندام نہانی کا داخلی راستہ مکمل طور پر بند تھا (vaginal atresia / stricture) یہ کوئی معمولی عیب نہیں بلکہ بہت بڑا اور واضح جسمانی نقص ہے۔
ڈاکٹر نے EUA کے دوران خود لکھا کہ: Labia minora absent، ،Clitoris deformed ،Urethral orifice barely identified ، پہلے سے موجود آپریشن یا زخم کے scars / stitches کے نشان موجود ہیں، اکتوبر 2025 میں vaginoplasty کی سرجری کرائی گئی، سرجری کے تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد بھی صورتحال یہ ہے: چھوٹا dilator تو داخل ہو جاتا ہے لیکن بڑا dilator پوری طرح نہیں جاتا، عام طریقے سے جماع نہیں ہو پا رہا، جنسی تعلق بالکل غیر مطمئن کن ہے، - Plastic surgeon نے پہلے ہی stage 2 reconstruction (flap/graft) کی سفارش کی تھی، جو ابھی تک نہیں ہوئی۔
بیوی اور اس کے خاندان کا موقف یہ ہے کہ انہیں 32-33 سال تک اس عیب کا بالکل علم نہیں تھا، وہ قسم کھانے کو بھی تیار ہیں، میرے نزدیک یہ بات ناقابلِ قبول ہے، اتنے بڑے اور واضح جسمانی نقص سے 33 سال تک مکمل بے خبر رہنا عقلاً بہت مشکل ہے، اس کے علاوہ خاندان میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے اور حقیقت کو ہلکا کر کے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بڑا جسمانی عیب ہے جو نکاح کے بنیادی مقاصد (جماع اور ازدواجی تعلق) میں رکاوٹ ہے۔ نکاح سے پہلے اس عیب کو چھپایا گیا، سرجری کے بعد بھی مکمل صحت یابی نہیں ہوئی، میں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، میں آپ سے صرف شرعی حکم پوچھنا چاہتا ہوں:
1) کیا مجھے اس بنیاد پر نکاح فسخ کرانے یا طلاق دینے کا حق حاصل ہے؟
2) کیا یہ عیب ان عیوب میں سے ہے جن کی وجہ سے شوہر کو اختیار حاصل ہوتا ہے؟
3) تدلیس (چھپانے) کی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
4) اگر نکاح فسخ یا طلاق ہو جائے تو مہر (جو پانچ لاکھ روپے ہے) کا کیا حکم ہوگا؟ کیا مہر واپس لیا جا سکتا ہے یا ادا کرنا پڑے گا؟
میں عمومی نصیحت نہیں، بلکہ واضح شرعی حکم چاہتا ہوں۔ تمام طبی رپورٹس اور دستاویزات میرے پاس موجود ہیں، اگر ضرورت ہو تو پیش کر سکتا ہوں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: آپ کے سوالات کے شرعی جوابات ترتیب واردرج ذیل ہیں:
1) شریعتِ مطہرہ نے شوہر کو طلاق دینے کا مکمل اور غیر مشروط اختیار دیا ہے، اس لیے اگر مقاصدِ نکاح پورے نہ ہو رہے ہوں اور نباہ ممکن نہ رہے تو آپ کو طلاق دے کر یہ رشتہ ختم کرنے کا پورا شرعی حق حاصل ہے؛ البتہ فقہِ حنفی کے مفتیٰ بہٰ قول کے مطابق شوہر کو عورت کے جسمانی عیوب کی بنا پر قاضی کے ذریعے نکاح "فسخ" کرانے کا اختیار نہیں ملتا کیونکہ اس کے اپنے ہاتھ میں طلاق کا مؤثر حق پہلے سے موجود ہے۔
2) فقہِ حنفی میں عورت کے مانعِ جماع عیوب (جیسے رتق وغیرہ) کی بنیاد پر شوہر کے لیے فسخ کا اختیار ثابت نہیں ہے، جبکہ دیگر ائمہ (مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ) کے نزدیک ایسے تمام شدید عیوب جو اصل مقصدِ نکاح یعنی صحبت میں مانع ہوں، ان پر شوہر کو بھی عدالتی فسخ کا حق حاصل ہوتا ہے؛ تاہم عملاً شوہر چونکہ خود طلاق دینے پر قادر ہے، اس لیے اسے فسخ کے پیچیدہ عدالتی عمل کی حاجت نہیں رہتی۔
3) اگر لڑکی یا اس کے سرپرستوں کو اس نقص یا سابقہ سرجری کا پہلے سے علم تھا اور انہوں نے جان بوجھ کر چھپایا تو یہ صریح جھوٹ، فریب اور شرعاً سخت گناہ ہے، تاہم اس تدلیس کے باوجود فقہِ حنفی کے رو سے نکاح منعقد ہو چکا ہے اور وہ بذاتِ خود باطل یا فاسد نہیں ہوا، البتہ دانستہ دھوکہ دہی کا وبال اخروی اعتبار سے دھوکہ دینے والوں کی گردن پر رہے گا۔
4) چونکہ آپ کے بیان کے مطابق بیوی میں پیدائشی طور پر اندامِ نہانی کا راستہ مکمل بند تھا (جو فقہ کی اصطلاح میں صریح "رتق" اور مانعِ حسی ہے) اور بعد میں ہونے والی سرجری کے باوجود تاحال عام اور فطری طریقے سے وطی/جماع ممکن نہیں ہو سکا، اس لیے شرعی اعتبار سے آپ کے درمیان "خلوتِ صحیحہ" متحقق ہی نہیں ہوئی بلکہ یہ "خلوتِ فاسدہ" شمار ہوگی؛ اور چونکہ خلوتِ فاسدہ سے پورا مہر مؤکد نہیں ہوتا، لہٰذا طلاق کی صورت میں آپ پر پورا مہر لازم نہیں آئے گا، بلکہ صرف نصف مہر (ڈھائی لاکھ روپے) ادا کرنا شرعاً لازم ہوگا، (الّا یہ کہ سرجری کے بعد راستہ کھل جانے کی صورت میں صحیح خلوت یا دخول کا تحقق ثابت ہو جائے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 3، ص 125، ط: دار الكتاب الإسلامي):
وليس للزوج أن يردها بعيب لما قدمنا أن مقصوده بالطلاق وهو بيده بخلافها.

المبسوط للسرخسي (ج 5، ص 96، ط: دار المعرفة):
والفرق لأبي حنيفة رحمه الله أن الفرقة بالطلاق مقدورة للزوج، فإنما يحتاج إلى الفسخ من تعجزه الفرقة، وهي المرأة؛ لأن أمر الفرقة ليس إليها، ولا يتمكن الزوج من إيفائها حقها، فجعل لها الخيار لدفع الضرر عنها، والزوج قادر على إزالة الضرر بالطلاق.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 2، ص 327، ط: دار الكتب العلمية):
ولو تزوجها على أنها بكر فوجدها ثيبا، أو على أنها بيضاء فوجدها سوداء، أو على أنها جميلة فوجدها قبيحة، أو وجد بها عيبا من العيوب فلا خيار له، والنكاح جائز؛ لأن خيار العيب لم يثبت في النكاح في حق الزوج.

رد المحتار على الدر المختار (ج 3، ص 117، ط: دار الفكر)
(وتتأكد) عند وطء أو خلوة صحت (بأن لا يكون ثمة مانع حسي) كمرض أحدهما أو رتق أو قرن... (قوله: وتتأكد عند وطء إلخ) اعلم أن المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الوطء، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 3، ص 156، ط: دار الكتاب الإسلامي):
فإن كانت رتقاء أو قرناء أو كان أحدهما مريضا مرضا يمنع الجماع فالخلوة فاسدة، وحكم الخلوة الفاسدة أنها لا توجب تأكد المهر المسمى بل يتنصف بالطلاق.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج 3، ص 118، ط: دار الفك):
وحكم الخلوة الفاسدة أنها لا تؤكد المهر المسمى بل يتنصف بالطلاق قبل الدخول الحقيقي.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah