سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں درج ذیل صورتِ حال کے بارے میں فقہِ حنفی کے مطابق تفصیلی شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
چند روز قبل ایک بالغ مرد اور ایک بالغ عورت اپنے گھر والوں کو اطلاع دیے بغیر خفیہ طور پر عدالت گئے، وہاں 2، 3 بالغ مسلمان گواہوں کی موجودگی میں انہوں نے نکاح نامہ (کابین نامہ) اور عدالتی حلف نامے پر دستخط کیے۔ تاہم نہ مرد نے زبانی طور پر ایجاب کیا اور نہ عورت نے زبانی طور پر قبول کیا، نکاح کے ایجاب و قبول کے واضح الفاظ زبانی طور پر ادا نہیں کیے گئے، پورا معاملہ صرف گواہوں کی موجودگی میں دستاویزات پر دستخط کرنے تک محدود رہا، جس کے بعد وہ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنے لگے، بعد میں شدید ازدواجی اختلافات کی وجہ سے شوہر نے جھگڑے کے دوران زبانی طور پر تین مرتبہ سے زیادہ لفظ ’’طلاق‘‘ استعمال کیا۔
اب دونوں کو اپنے کیے پر ندامت ہے، ان کے گھر والوں کو بھی اس معاملے کا علم ہوگیا ہے اور وہ گھر پر شرعی طریقے سے گواہوں، مہر اور واضح زبانی ایجاب و قبول کے ساتھ نیا نکاح کروانا چاہتے ہیں، تاہم دونوں کو پہلے کہے گئے طلاق کے الفاظ کے بارے میں بہت تشویش ہے۔
1) کیا فقہِ حنفی کے مطابق ان کا پہلا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا تھا، کیونکہ زبانی ایجاب و قبول نہیں ہوا اور صرف گواہوں کی موجودگی میں دستاویزات پر دستخط کیے گئے تھے؟
2) اگر پہلا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا تو بعد میں شوہر کی جانب سے زبانی طور پر کہے گئے طلاق کے الفاظ، اگرچہ تین سے زیادہ مرتبہ کہے گئے ہوں، کیا شرعاً مؤثر ہوں گے؟ کیا اس صورت میں کوئی طلاق واقع ہوئی یا آخری جدائی واقع ہوگئی؟
3) اگر پہلا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا تو کیا اب دونوں بغیر حلالہ یا کسی اور شخص سے نکاح کیے، نیا مہر مقرر کرکے اور گواہوں کی موجودگی میں واضح زبانی ایجاب و قبول کے ساتھ آپس میں نیا نکاح کرسکتے ہیں؟
جواب: 1) پہلے نکاح کے عدمِ انعقاد کا حکم
پوچھی گئی صورت میں اگر نکاح کی مجلس میں دونوں فریقین موجود تھے، لیکن نکاح کے وقت صرف نکاح نامہ یا دیگر دستاویزات پر دستخط کیے گئے اور فریقین میں سے کسی نے زبانی ایجاب و قبول نہیں کیا، نہ کسی وکیل نے ان کی طرف سے زبانی ایجاب و قبول کیا اور نہ گواہوں کے سامنے کسی جانب سے ایسا زبانی اقرار ہوا جس سے شرعی ایجاب و قبول متحقق ہو تو محض دستخط کرنے سے شرعی نکاح منعقد نہیں ہوا، کیونکہ جو شخص بولنے پر قادر ہو، اس کے لیے حضوری مجلس میں محض کتابت عقدِ نکاح کے انعقاد کے لیے کافی نہیں، لہٰذا اگر واقعتاً یہی صورت تھی تو عورت اس شخص کی شرعی منکوحہ نہیں بنی، اس کے بعد دونوں نے اگر میاں بیوی سمجھ کر باہمی تعلق قائم کیا تو اس کا حکم وطی بالشبہہ کا ہوگا، کیونکہ دونوں نکاح کے انعقاد کا گمان رکھتے تھے۔
2)بعد میں کہے گئے طلاق کے الفاظ کا شرعی اثر
جب شرعی نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تو بعد میں مرد کی جانب سے کہے گئے طلاق کے الفاظ بھی شرعاً واقع نہیں ہوں گے، کیونکہ طلاق کا محل وہ عورت ہے جو نکاح میں ہو، اور جب نکاح ہی قائم نہیں تھا تو طلاق کا محل بھی موجود نہ تھا، لہٰذا اگر نکاح کے عدمِ انعقاد کی صورت میں مرد نے ایک، دو یا تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے ہوں تو ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور طلاقِ مغلظہ یا آخری جدائی کا بھی کوئی حکم نہیں ہوگا۔
3)تجدیدِ نکاح، دوسرے شخص سے نکاح اور عدت کا مسئلہ
اگر نکاح کے عدمِ انعقاد کے باوجود دونوں کے درمیان مباشرت ہوچکی ہو تو وطی بالشبہہ کی وجہ سے تفریق کے بعد عورت پر عدت لازم ہوگی۔ عدت کا آغاز باہمی ترکِ تعلق یا شرعی تفریق کے بعد ہوگا، اگر عورت کو حیض آتا ہو تو تین حیض عدت ہوگی، اور اگر حاملہ ہو تو وضعِ حمل تک عدت رہے گی۔ محض خلوت کی صورت میں وطی بالشبہہ کی عدت کا حکم نہیں ہوگا، بلکہ مباشرت کا تحقق ضروری ہے۔
عدت مکمل ہونے کے بعد اگر دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی اختیار کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں زبانی ایجاب و قبول کے ذریعے نیا نکاح کرسکتے ہیں، چونکہ سابقہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا اور اس کے بعد کہی گئی طلاقیں بھی واقع نہیں ہوئیں، اس لیے سابقہ شوہر سے نکاح کرنے کے لیے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
تنبیہ: اس پورے حکم کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ پہلے نکاح کی مجلس میں واقعی کوئی زبانی ایجاب و قبول نہیں ہوا تھا۔ اگر نکاح خواں، قاضی، وکیل یا کسی دوسرے شخص نے ایجاب یا قبول کے شرعی الفاظ ادا کیے تھے اور فریقین نے ان الفاظ کو قبول کیا تھا تو حکم مختلف ہوسکتا ہے، اس لیے ایسی صورت میں نکاح کے وقت پیش آنے والے واقعہ اور ادا کیے گئے الفاظ کی مکمل تحقیق ضروری ہوگی ۔
...........................
الدلائل:
رد المحتار علی الدر المختار(كتاب النكاح، ج 3، ص 12، ط: دار الفكر، بيروت):
«(فَلَا يَنْعَقِدُ) بِقَبُولٍ بِالْفِعْلِ كَقَبْضِ مَهْرٍ وَلَا بِتَعَاطٍ (وَلَا بِكِتَابَةِ حَاضِرٍ) بَلْ غَائِبٍ بِشَرْطِ إِعْلَامِ الشُّهُودِ بِمَا فِي الْكِتَابِ... (قَوْلُهُ: وَلَا بِكِتَابَةِ حَاضِرٍ) فَلَوْ كَتَبَ: تَزَوَّجْتُكِ فَكَتَبَتْ: قَبِلْتُ لَمْ يَنْعَقِدْ، بَحْرٌ. وَالْأَظْهَرُ أَنْ يَقُولَ: فَقَالَتْ قَبِلْتُ إلَخْ؛ إذْ الْكِتَابَةُ مِنْ الطَّرَفَيْنِ بِلَا قَوْلٍ لَا تَكْفِي وَلَوْ فِي الْغَيْبَةِ، تَأَمَّلْ.»
الفتاوى الهندية(كتاب النكاح، الباب الأول في تفسيره وركنه وشرطه، ج 1، ص 270، ط: دار الفكر، بيروت):
«وَلَا يَنْعَقِدُ بِالتَّعَاطِي، كَذَا فِي النِّهَايَةِ. وَلَا يَنْعَقِدُ بِالْكِتَابَةِ مِنْ الْحَاضِرِينَ، فَلَوْ كَتَبَ تَزَوَّجْتُكِ فَكَتَبَتْ قَبِلْتُ؛ لَمْ يَنْعَقِدْ هَكَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ.»
البحر الرائق شرح كنز الدقائق(كتاب النكاح، ج 3، ص 88، ط: دار الكتاب الإسلامي):
« (قَوْلُهُ: وَلَا بِكِتَابَةِ حَاضِرٍ) أَيْ لَا يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِكِتَابَةِ الْحَاضِرِ، فَلَوْ كَتَبَ تَزَوَّجْتُكِ فَكَتَبَتْ قَبِلْتُ لَمْ يَنْعَقِدْ؛ لِأَنَّ الْكَلَامَ هُوَ الْأَصْلُ فِي الْعُقُودِ فَلَا يُعْدَلُ عَنْهُ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ إِلَّا لِضَرُورَةِ الْغَيْبَةِ.»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق، ج 3، ص 125، ط: دار الكتب العلمية، بيروت) :
«وَأَمَّا الشَّرْطُ الَّذِي يَرْجِعُ إلَى الْمَرْأَةِ: فَهُوَ أَنْ تَكُونَ مَحَلًّا لِلطَّلَاقِ، وَمَحَلُّهَا أَنْ تَكُونَ زَوْجَةً لِلْمُطَلِّقِ... فَلَا يَصِحُّ طَلَاقُ الْأَجْنَبِيَّةِ لِانْعِدَامِ الْمَحَلِّ؛ لِأَنَّ الطَّلَاقَ هُوَ التَّصَرُّفُ فِي قَيْدِ النِّكَاحِ بِالْإِطْلَاقِ، وَإِنَّهُ يَسْتَدْعِي قَيْدًا قَائِمًا.»
الدر المختار مع رد المحتار(كتاب الطلاق، ج 3، ص 230، ط: دار الفكر):
«(وَشَرْطُهُ) لَفْظٌ مَخْصُوصٌ... (وَمَحَلُّهُ) الْمَحَلُّ الْقَابِلُ وَهُوَ (الْمَرْأَةُ الْمَعْقُودُ عَلَيْهَا) بِنِكَاحٍ، فَلَا يَصِحُّ طَلَاقُ أَجْنَبِيَّةٍ.»
رد المحتار علی الدر المختار(كتاب النكاح، باب المهر، ج 3، ص 132، ط: دار الفكر):
«(وَتَجِبُ الْعِدَّةُ) بَعْدَ الْوَطْءِ (فِي نِكَاحٍ فَاسِدٍ) وَمِثْلُهُ الْوَطْءُ بِشُبْهَةٍ... وَابْتِدَاءُ الْعِدَّةِ فِي الْفَاسِدِ وَالشُّبْهَةِ بَعْدَ الْمُتَارَكَةِ أَوِ التَّفْرِيقِ.»
الفتاوى الهندية:(كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج 1، ص 526، ط: دار الفكر)
«وَإِذَا وَطِئَهَا بِشُبْهَةٍ، أَوْ فِي نِكَاحٍ فَاسِدٍ فَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ... وَتَعْتَدُّ بِالْحَيْضِ إِنْ كَانَتْ تَحِيضُ ثَلَاثَ حِيَضٍ.»
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی