resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: اسٹوڈنٹ ویزے پر بیرونِ ملک جانے والے لڑکے اور لڑکی کا چھپ کر نکاح کرنا

(63639-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت! سوال یہ ہے کہ چین میں اسٹوڈنٹ ویزا پر ایک لڑکا اور لڑکی ساتھ رہ رہے ہیں اور ایک ہی روم شیئر کرتے ہیں، اندیشہ ہے کہ کہیں ان سے کوئی گناہ نہ ہوجائے، دونوں ایک دوسرے سے شادی بھی کرنا چاہتے ہیں، لیکن شادی چار سال بعد کریں گے، کیونکہ دونوں وہاں ڈاکٹر بن رہے ہیں۔
کیا ایسی صورت میں وہ آپس میں نکاح کرلیں؟ گھر والوں کو نکاح کے بارے میں بتائیں گے تو وہ راضی نہیں ہوں گے، اس وجہ سے وہ گھر والوں سے چھپا کر نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اس صورت میں کوئی شرعی حل ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ لڑکی اور لڑکا دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کرلیں تو یہ نکاح اگرچہ منعقد ہو جائے گا اور دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جائیں گے، البتہ بہتر یہی ہے کہ گھر والوں کو اعتماد میں لے کر نکاح کے لیے اقدام اٹھائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*بدائع الصنائع: (فصل ولایة الندب و الاستحباب فی النکاح، 247/2، ط: سعید)*
"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض".

*الدر المختار: (باب الولی، 55/3، ط: سعید)*
"(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah