سوال:
شوہر کا بیوی سے رات کے وقت ازدواجی تعلق قائم کرنے کا کتنا حق ہے؟ اگر شوہر پردیس میں ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ شوہر کے لیے بیوی سے جماع اور ازدواجی تعلق قائم نہ کرنا اور اسے بالکل ہی ترک کر دینا جائز نہیں، لیکن کتنے وقفے سے یہ تعلق قائم کیا جانا چاہیے؟ اس کی کوئی متعّین مدّت شریعت نے مقرر نہیں کی ہے، بلکہ شریعت نے اس معاملے کو میاں بیوی کی باہمی رضامندی اور ضرورت پر موقوف رکھا ہے، تاہم چار ماہ میں کم از کم ایک بار بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرنا بیوی کا حق ہے، لہٰذا اگر شوہر چار ماہ سے زائد بلا عذر بیوی سے ازدواجی تعلق قائم نہ کرے تو شوہر گناہ گار ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر پردیس میں مقیم ہو تو بیوی کی اجازت کے بغیر چار ماہ سے زائد وہاں ٹھہرنا جائز نہیں ہوگا، االبتہ اگر بیوی خوشی سے اپنا یہ حق معاف کر دے اور اس پر راضی ہو جائے تو شوہر کے لیے چار ماہ سے زائد پردیس میں قیام کرنے کی اجازت ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
*رد المحتار: (3/202، ط: دار الفکر)*
قال في الفتح: *اعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة ۔۔ ولم يقدروا فيه مدة ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به* اه. ... وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، *وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم.* اه... أما لو أصابها مرة واحدة لم يتعرض له لأنه علم أنه غير عنين وقت العقد، بل يأمره بالزيادة أحيانا لوجوبها عليه إلا لعذر ومرض أو عنة عارضة أو نحو ذلك ... ثم قوله وهو أربعة يفيد أن المراد إيلاء الحرة، ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی