سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں 25 سال کی بالغ مسلمان لڑکی ہوں اور پاکستان میں رہتی ہوں۔ میرے والد نے میری دعاۓ خیر ایک لڑکے کے ساتھ کروائی تھی، لیکن اب وہ اس لڑکے کے والد کے رویے کی وجہ سے اس رشتے سے منع کر رہے ہیں، حالانکہ وہ لڑکا خود اپنے والد کی بات کو غلط مانتا ہے اور مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے، میں بھی اس سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے والد کسی صورت راضی نہیں ہیں۔
میرا سوال ہے کہ حنفی فقہ اور پاکستانی قانون کے مطابق میرے لیے کیا شرعی راستہ ہے؟ کیا والد کا انکار ایسی صورت میں درست ہے؟ اگر وہ بلاجواز انکار کریں تو میں کیا کروں؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: اسلامی شریعت نے خاندانی نظام کے وقار، حیا اور معاشرتی حرمت کے تحفّظ کے لیے اس بات کی سخت حوصلہ شکنی کی ہے کہ کوئی بیٹی اپنے والدین اور ولی کی رضا کے بغیر تنہا اپنی مرضی سے نکاح کا اقدام کرے۔ باپ گھر کا فطری سرپرست اور خیر خواہ ہوتا ہے، اس کی خوشنودی اور سرپرستی کو پامال کر کے اپنے طور پر نکاح کرنا شرعاً و اخلاقاً سخت ناپسندیدہ، نامحمود اور برکت سے خالی عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طرزِ عمل کی اتنی شدت سے ممانعت فرمائی ہے کہ ایک حدیثِ مبارکہ میں تو ولی کی اجازت کے بغیر ہونے والے نکاح کو باطل تک قرار دیا گیا ہے؛ چنانچہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ» (جامع الترمذی: 1102) یعنی جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ نیز جمہور ائمہ (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) کے نزدیک بھی ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا نکاح اصلاً منعقد ہی نہیں ہوتا، اس لیے کسی دیندار اور باحیا بیٹی کو والدین کے ماتھے پر بدنامی کا داغ لگا کر ایسا باغیانہ قدم اٹھانے کا تصوّر بھی نہیں کرنا چاہیے۔
البتہ اگر کوئی عاقلہ اور بالغہ لڑکی اپنے والد کے بلا جواز انکار کے باوجود اپنے طور پر نکاح کے اس فیصلے پر بضد رہے اور اقدام کر ہی گزرے تو فقہِ حنفی کی ایک ذیلی فقہی گنجائش کے تحت نہایت سخت شرائط کے ساتھ یہ نکاح کسی طرح منعقد ہو جائے گا۔ یہ شرائط درج ذیل ہیں:
1) شرعی اور قانونی طور پر لڑکی اور لڑکا دونوں عاقل اور بالغ ہوں۔
2) نکاح دو عاقل، بالغ اور دیندار مسلمان مردوں (یا ایک مرد اور دو عورتوں) کے روبرو باقاعدہ شرعی ایجاب و قبول کے ساتھ مجلسِ عقد میں ہو۔
3) لڑکا ہر لحاظ سے لڑکی کے خاندان کا کفو (ہم پلہ، دین، شرافت اور معاشی حیثیت میں برابر) ہو۔
4) مہر کی مقدار لڑکی کے خاندان کی دیگر ہم پلہ خواتین کے مہر (مہرِ مثل) کے برابر یا اس سے زیادہ مقرر کی گئی ہو۔
آخردو شرطوں میں سے کوئی شرط بھی مفقود ہو تو اگرچہ بعض فقہاء کے ہاں نکاح منعقد ہوجائے گا، تاہم والد کو عدالت کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کرانے کا پورا حق حاصل رہے گا، اور اگر یہ تمام شرائط پوری بھی ہوں تب بھی بغیر ولی کے ایسا نکاح مکروہ اور ناپسندیدہ شمار ہوتا ہے، جس پر فقہاء نے سخت تنبیہ فرمائی ہے۔
دوسری جانب آپ کے والدین اور خصوصاً والدِ محترم کے لیے بھی یہ بات سمجھنا اور اس پر غور کرنا شرعاً لازم ہے کہ شریعت نے ولایت کا منصب امانت اور اولاد کی خیر خواہی کے لیے دیا ہے، نہ کہ ضد، انا یا محض ذاتی رنجشوں کی تسکین کے لیے۔ جب دعائے خیر کے وقت لڑکا مناسب معلوم ہوا تھا اور اب محض اس کے والد کے نامناسب رویے یا بداخلاقی کی بنیاد پر انکار کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ لڑکا بذاتِ خود دیندار، شریف اور اپنے والد کے اس رویے کو غلط مانتا ہے تو لڑکے کے باپ کے قصور کا بوجھ اس بے قصور نوجوان پر ڈال کر بیٹی کا راستہ روکنا عدل و انصاف کے منافی ہے۔
قرآنِ کریم کا واضح اصول ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴿ النجم 38 ﴾ (کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا)۔ اگر والدین محض ضد یا دوسرے فریق کے باپ کے رویے کی وجہ سے بغیر کسی شرعی نقص کے اچھے، کفو اور دیندار لڑکے سے بیٹی کے نکاح میں رکاوٹ بنیں گے تو یہ شریعت کی نظر میں "عضل" (ظلم و ناانصافی) کہلائے گا، جس کے نتیجے میں اگر اولاد کسی غلط راہ یا فتنہ میں مبتلا ہوئی تو اس کا وبال اولیاء پر بھی عائد ہوگا، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اللہ کا خوف اختیار کریں، اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر بیٹی کے جائز جذبات، مستقبل اور عفت کی حفاظت کو ترجیح دیں اور خاندان کے سنجیدہ بزرگوں کی ثالثی کے ذریعے باہمی عزت کے ساتھ اپنی ہی سرپرستی میں یہ رشتہ طے فرمائیں۔
جہاں تک اس معاملے میں پاکستانی قانون، عدالتی طریقہ کار اور ضابطے کی کارروائی کا تعلق ہے تو اس کے لیے کسی مستند فیملی وکیل سے رابطہ کرلیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
سنن الترمذي: (3/ 399،ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
عن عروة، عن عائشة، أن [ص:400] رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل، فنكاحها باطل، فنكاحها باطل، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له»: «هذا حديث حسن»،
الدر المختار مع رد المحتار: (3/ 55)
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا
(وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكف ء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى.
القرآن الکریم:[البقرة: 232]
{ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}
تفسير الجلالين (ص: 50، ط: دار الحديث - القاهرة)
{وَإِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَاء فَبَلَغْنَ أَجَلهنَّ} انْقَضَتْ عِدَّتهنَّ {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ} خِطَاب لِلْأَوْلِيَاءِ أَيْ تَمْنَعُوهُنَّ مِنْ {أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجهنَّ} الْمُطَلِّقِينَ لَهُنَّ لِأَنَّ سَبَب نُزُولهَا أَنَّ أُخْت مَعْقِل بْن يَسَار طَلَّقَهَا زَوْجهَا فَأَرَادَ أَنْ يُرَاجِعهَا فَمَنَعَهَا مَعْقِل بْن يَسَار كَمَا رَوَاهُ الْحَاكِم {إذَا تَرَاضَوْا} أَيْ الْأَزْوَاج وَالنِّسَاء {بَيْنهمْ بِالْمَعْرُوفِ} شَرْعًا {ذَلِكَ} النَّهْي عَنْ الْعَضْل {يُوعَظ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِن بِاَللَّهِ وَالْيَوْم الْآخِر} لِأَنَّهُ الْمُنْتَفِع بِهِ {ذَلِكُمْ} أَيْ تَرْك الْعَضْل {أَزْكَى} خَيْر {لَكُمْ وَأَطْهَر} لَكُمْ وَلَهُمْ لِمَا يَخْشَى عَلَى الزَّوْجَيْنِ مِنْ الرِّيبَة بِسَبَبِ الْعَلَاقَة بَيْنهمَا {وَاَللَّه يَعْلَم} مَا فِيهِ الْمَصْلَحَة {وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} ذَلِكَ فاتبعوا أوامره.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی