resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: نکاح کے انتخاب اور دینی تعلیم کے حصول میں شرعی رہنمائی

(68280-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!مجھے اپنی زندگی کے دو اہم فیصلوں، نکاح اور دینی تعلیم کے بارے میں واضح شرعی رہنمائی چاہیے۔ میری درخواست ہے کہ براہِ کرم میری صورتحال کو سمجھ کر بتائیں کہ میرے لیے عملی طور پر بہتر راستہ کیا ہے۔
میری خواہش ہے کہ میرا نکاح ایسے شخص سے ہو جو دین دار، اچھے اخلاق والا، ذمہ دار اور میرے ساتھ ذہنی و دینی موافقت رکھنے والا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے بہت کم ایسے رشتے ملتے ہیں جو میری بنیادی ترجیحات پر پورے اترتے ہوں۔
میں یہ نہیں چاہتی کہ کسی کامل انسان کی تلاش میں رہوں، کیونکہ ہر انسان میں خامیاں ہوتی ہیں، لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ صرف اچھے رشتے کم ہونے کے خوف سے کسی نامناسب شخص سے شادی کر لوں۔
میرے سامنے ایک رشتہ ایسا بھی ہے جس میں لڑکا مجھ سے تقریباً ایک سال چھوٹا ہے، تعلیم میں مجھ سے کم ہے اور اسے غصے کا مسئلہ بھی ہے، اس وجہ سے مجھے اس کے ساتھ مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔
میرے خاندانی تعلقات بھی زیادہ مستحکم نہیں ہیں، اس لیے میں اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں استحکام ہو، لیکن صرف اپنے موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے غلط شادی بھی نہیں کرنا چاہتی۔ میرا ماضی میں ایک تعلق بھی رہا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اب اپنے مستقبل کے بارے میں درست فیصلہ کروں۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ کیا مجھے کسی مناسب مگر غیر کامل شخص سے شادی کے لیے آمادہ ہونا چاہیے یا اس وقت شادی نہ کرکے انتظار کرنا بہتر ہے؟ میں کیسے فیصلہ کروں کہ کن خامیوں کو قبول کرنا چاہیے اور کنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟ اگر مجھے اچھا رشتہ نہ ملا تو میں اپنی عفت، ایمان اور دین کی حفاظت کیسے کروں؟ کیا صرف معاشرے کے خراب حالات اور فتنوں کے خوف سے جلدی شادی کرنا درست ہے؟
2) میں اسلام آباد کی یونیورسٹی میں دوسرے سمسٹر میں پڑھ رہی ہوں، میرا مقصد اللہ کے قریب ہونا، صحیح عقیدہ سیکھنا اور قرآن و سنت کو سمجھنا ہے، لیکن مجھے یونیورسٹی آنے جانے اور بسوں میں سفر کرنے کی مشقت پسند نہیں اور میں سوچتی ہوں کہ گھر میں رہ کر دینی علم حاصل کرنا شاید میرے لیے زیادہ مناسب ہو۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ کیا مجھے یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے یا گھر میں رہ کر مستند علماء اور اساتذہ سے دینی علم حاصل کرنا چاہیے؟ میں اپنے دین، حیا، حفاظت اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے کون سا راستہ اختیار کروں؟

جواب: 1) نکاح کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق دین داری اور حسنِ اخلاق کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے، لہٰذا مزاج، معاشرتی حیثیت، تعلیم یا عمر کے معمولی فرق میں گنجائش رکھی جا سکتی ہے، لیکن بدخلقی، بے قابو غصہ اور عدمِ ذمہ داری جیسی خامیوں کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں، کیونکہ یہ ازدواجی زندگی میں شدید مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے محض رشتہ نہ ملنے، حالات سے فرار یا فتنوں کے خوف کی وجہ سے کسی نامناسب شخص سے نکاح نہ کریں، بلکہ استخارہ، دعا، صبر اور استغفار کے ساتھ مناسب رشتے کی تلاش جاری رکھیں اور اپنی عفّت و پاک دامنی کی حفاظت کے لیے نفلی روزوں، نگاہوں کی حفاظت اور غیر محرموں سے غیر ضروری اختلاط سے اجتناب کریں۔
2) جہاں تک دینی تعلیم کا تعلق ہے، اگر یونیورسٹی آنے جانے میں شرعی پردے اور حیا کی حفاظت ممکن ہے اور دشواری صرف بسوں کی بھیڑ اور سفر کی طبعی مشقت تک محدود ہے تو طلبِ علم کی خاطر یہ مشقت برداشت کرتے ہوئے اپنی ڈگری جاری رکھنا زیادہ مناسب ہے، البتہ اگر سفر میں واقعی شرعی حدود، حیا یا عفت کو سنگین خطرہ لاحق ہو تو کسی مستند دینی ادارے یا اہلِ علم کی نگرانی میں باقاعدہ آن لائن روایتی دینی تعلیم حاصل کرنے کا متبادل اختیار کیا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحیح البخاري:( النکاح / باب الإکفاء في الدین، رقم الحدیث: 5090)*
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: تنکح المرأۃ لأربع: لمالہا ولحسبہا ولجمالہا ولدینہا، فاظفر بذات الدین تربت یداک.

*الموسوعة الفقهية الكويتية: (2/ 290 دارالسلاسل - الكويت)*
يختلف حكم اختلاط الرجال بالنساء بحسب موافقته لقواعد الشريعة أو عدم موافقته، فيحرم

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah