سوال:
السلام علیکم، میں اپنے منگیتر کے ساتھ اپنے تعلق کے حوالے سے ایک مسئلے میں رہنمائی چاہتی ہوں۔
حال ہی میں ہماری منگنی ہوئی ہے، لیکن ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا۔ میرے منگیتر کبھی کبھار مجھ سے ازدواجی اور نجی معاملات کے بارے میں گفتگو شروع کردیتے ہیں، مثلاً شادی کے بعد ہماری پسند و ناپسند، شبِ زفاف یا ہماری ذاتی خواہشات کے بارے میں۔ میں نے انہیں بارہا بتایا ہے کہ ایسی گفتگو سے مجھے بے اطمینانی محسوس ہوتی ہے اور میں نکاح سے پہلے اس قسم کے معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتی، لیکن اس کے باوجود وہ اکثر سوالات کرتے رہتے ہیں یا مجھے جواب دینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ بالآخر مجھے اس خوف سے جواب دینا پڑتا ہے کہ کہیں میرے انکار سے وہ ناراض نہ ہوجائیں۔
اگرچہ میں ان کی طرف فطری کشش محسوس کرتی ہوں، لیکن ایسی گفتگو کے بعد مجھے شدید بے اطمینانی اور گناہ کا احساس ہوتا ہے اور اب میں یہ سوچنے لگی ہوں کہ کیا ان کا یہ رویہ ان اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو میں اپنے ہونے والے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہوں۔
براہِ کرم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا منگنی کے بعد نکاح سے پہلے منگیتر کے درمیان اس قسم کی نجی اور ازدواجی گفتگو کرنا جائز ہے؟ اور جب میرا منگیتر میرے یہ بتانے کے باوجود کہ میں اس گفتگو سے بے آرام ہوں، اس پر اصرار کرتا رہے تو مجھے کس طرح جواب دینا چاہیے؟ کیا میرے لیے یہ مناسب ہے کہ میں واضح اور مضبوط حد مقرر کرکے ایسی گفتگو سے مکمل طور پر انکار کردوں؟
نیز شادی کے فیصلے پر غور کرتے ہوئے کیا اس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ وہ میری واضح طور پر بیان کی ہوئی اس حد کا مسلسل لحاظ نہیں کررہا؟ جزاکم اللہ خیراً، آپ کے وقت اور رہنمائی کا شکریہ۔
جواب: واضح رہے کہ منگنی نکاح نہیں ہے، بلکہ مستقبل میں نکاح کرنے کا وعدہ ہے، اس لیے منگنی کے بعد بھی لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہی رہتے ہیں، ان دونوں کا آپس میں ملنا جلنا یا ہنسی مذاق کرنا شرعاً منع ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے اپنے منگیتر سے فون پر بلا ضرورت بات کرنا اور خاص کر فحش گفتگو کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ حدیث شریف میں نامحرم کے ساتھ فحش گفتگو کو "زبان کا زنا" قرار دیا گیا ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے منگیتر کو شرعی مسئلہ بتاکر اس سلسلے کو فوراً بند کردیں۔
امید ہے کہ شرعی حکم جان لینے کے بعد آپ کا منگیتر اس گناہ کے کام پر اصرار نہیں کرے گا اور آپ کو اس پر مجبور نہیں کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (الاحزاب، الآية: 32)*
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِه مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًاo
*سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث:2152، ط: دارالرسالة العالمیة)*
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ".
*الفقہ الاسلامی و ادلته: (6508/9)*
تحريم الخلوة بالمخطوبة :بينا أن الخطبة ليست زواجاً، وإنما هي مجرد وعد بالزواج، فلا يترتب عليها شيء من أحكام الزواج، ولا الخلوة بالمرأة أو معاشرتها بانفراد لأنها ما تزال أجنبيةعن الخاطب۔۔وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً إلى الأماكن العامة وغيرها،فهو كله ممنوع شرعاً۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی