resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سركاری کاغذات اور ایف آر سی فارم وغیرہ میں بطور بہن بھائی درج غیر حقیقی بھائی بہن کا نکاح

(59416-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! ایک لڑکا اور ایک لڑکی بچپن سے ایک ہی گھر میں پرورش پا رہے ہیں۔ دونوں کے والدین الگ الگ ہیں، نہ نسبی رشتہ ہے نہ رضاعی۔ نہ لڑکے نے گھر کی خاتون کا دودھ پیا ہے نہ لڑکی نے۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری ریکارڈ یعنی فارم بے اور FRC میں گھر والوں نے انہیں "بہن بھائی" کے طور پر درج کروا دیا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے؟ اور سرکاری ریکارڈ میں بہن بھائی لکھا ہونے کی وجہ سے کیا کوئی شرعی یا قانونی رکاوٹ ہے؟ قرآن، سنت اور فقہ کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ محض ایک گھر میں پرورش پانے یا صرف سرکاری ریکارڈ میں بہن بھائی درج ہونے سے شرعاً حقیقی بہن بھائی کا رشتہ ثابت نہیں ہوتا۔ حرمتِ نکاح کے اسباب نسب، رضاعت اور مصاہرت ہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً مذکورہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان نہ نسبی رشتہ ہے، نہ شرعی رضاعت ثابت ہے اور نہ کوئی ایسا رشتہ ہے جو مصاہرت کی وجہ سے نکاح کو حرام کرتا ہو تو شرعی طور پر ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے۔
تاہم چونکہ سركاری کاغذات اور ایف آر سی فارم وغیرہ میں بطور بہن بھائی درج ہیں، اس لیے قانونی طور پر اس میں پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں، جس کے لیے قانون کے ماہرین سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
نیز واضح رہے کہ چونکہ سرکاری ریکارڈ میں ان کا اندراج بطورِ بہن بھائی حقیقت کے خلاف ہے، اس لیے وہ جھوٹ اور غلط بیانی ہے، اس جھوٹ اور غلط بیانی کو برقرار رکھنا بھی جائز نہیں، مناسب طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ میں حقیقت کی درستگی کے لیے قانونی طریقہ اختیار کرکے اسے درست کروایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (28/3، ط: دار الفكر)
فصل في المحرمات: أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة: ذكرها المصنف بهذا الترتيب.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah