سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے، میں ایک مطلقہ خاتون ہوں اور میری ایک بیٹی بھی ہے۔ میں ایک ایسے شخص سے محبت کرتی ہوں جو پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کے بچے بھی ہیں، فون اور سوشل میڈیا پر ہماری کافی گفتگو ہوئی اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نکاح کے لیے پسند بھی کرلیا ہے، لیکن میرے گھر والے میری اس پسند پر راضی نہیں ہیں۔
اب مجھے اس شخص سے بہت زیادہ محبت ہوگئی ہے، لہٰذا میں اسی سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ اس شخص نے مجھے کہا کہ آپ مجھے اپنے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دیں، میں دو گواہوں کے سامنے آپ سے نکاح کرلوں گا، یعنی آپ کو قبول کرلوں گا۔ اس طرح آپ شرعی طور پر میری بیوی بن جائیں گی اور پھر ہماری گفتگو اور ملاقات بھی حرام نہیں ہوگی، چنانچہ میں نے اسے اس طرح نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔
اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کیا اس طریقے سے نکاح ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو اس نکاح کا کیا حکم ہے؟ کیا میں شرعی طور پر اس کی بیوی بن گئی ہوں؟ اور کیا اب ہماری گفتگو یا ملاقات ہمارے لیے حلال ہے؟ نیز یہ بھی بتادیں کہ جب میں نے اسے فون پر نکاح کی اجازت دی تھی تو کیا اس طرح نکاح منعقد ہوسکتا ہے؟
اس شخص کا کہنا ہے کہ میں نے علماءِ کرام سے سنا ہے کہ جو عورت مطلقہ یا بیوہ ہو، اسے اپنے والدین کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر وہ خود نکاح کرنا چاہے تو وہ اپنی مرضی سے بغیر کسی کی اجازت کے نکاح کرسکتی ہے۔ اسی لیے اس نے مجھ سے کہا کہ آپ مجھے نکاح کی اجازت دے دیں کہ میں آپ سے نکاح کرلوں یا آپ مجھ سے نکاح کرلیں تو میں دو گواہوں کے سامنے آپ کو قبول کرلوں گا، لہٰذا میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ہمارا نکاح ہوگیا ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر اس مسئلے کا شرعی حکم بیان فرمادیں۔ شکریہ
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر موبائل فون پر نکاح کی اجازت دینے کے بعد باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح نہیں کیا گیا ہو تو محض فون پر اجازت دینے سے نکاح نہیں ہوا ہے، لہٰذا آپ دونوں کے لیے ملاقات یا کسی بھی اعتبار سے تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہوگا۔
البتہ اجازت دینے کے بعد اگر مذکورہ شخص نے آپ کی طرف سے وکیل بن کر دو گواہوں کے سامنے اپنے ساتھ باقاعدہ نکاح کرلیا ہو تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوگیا ہے، بشرطیکہ جن گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا گیا ہو، وہ آپ کی شناخت اور تعارف سے اچھی طرح واقف ہوں۔
تاہم گھر والوں کی رضامندی کے بغیر ایسا اقدام اٹھانا مناسب نہیں ہے، لہٰذا گھر والوں کی رضامندی اور اعتماد حاصل کرتے ہوئے اس رشتے کے سلسلے میں آگے بڑھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ نکاح میں گواہوں کے لیے نکاح میں دی جانے والی عورت کو بخوبی پہچاننا ضروری ہے، تاکہ کسی قسم کا کوئی اشتباہ باقی نہ رہے۔ اگر گواہ اس عورت کو اچھی طرح جانتے ہوں تو نکاح کے وقت اس کا نام اور اس کے والد کا نام ذکر کرنا کافی ہوتا ہے، لیکن اگر گواہ اسے نہ جانتے ہوں تو پہچان کرانے کے لیے اس عورت کا نام، اس کے والد کا نام، اس کے دادا کا نام اور اس کے متعلق دیگر ضروری معلومات ذکر کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ اس کی اچھی طرح پہچان ہوسکے؛ کیونکہ نکاح میں گواہی قائم کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں عورت فلاں مرد کے نکاح میں آگئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)*
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين.
رد المحتار: (21/3، ط: دار الفكر)
[تنبيه]
أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها. فإن لم يروا شخصا وسمعوا كلامها من البيت، إن كانت وحدها فيه جاز، ولو معها أخرى فلا لعدم زوال الجهالة وكذا إذا وكلت بالتزويج فهو على هذا. اه. أي إن رأوها أو كانت وحدها في البيت يجوز أن يشهدوا عليها بالتوكيل إذا جحدته، وإلا فلا لاحتمال أن الموكل المرأة الأخرى، وليس معناه أنه لا يصح التوكيل بدون ذلك وأنه يصير العقد عقد فضولي فيصح بالإجارة بعده قولا أو فعلا لما علمته آنفا فافهم. ثم قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها. وجوز الخصاف النكاح مطلقا، حتى لو وكلته فقال بحضرتهما زوجت نفسي من موكلتي أو من امرأة جعلت أمرها بيدي فإنه يصح عنده. قال قاضي خان: والخصاف كان كبيرا في العلم يجوز الاقتداء به وذكر الحاكم الشهيد في المنتقى كما قال الخصاف. اه.
قلت: في التتارخانية عن المضمرات أن الأول هو الصحيح وعليه الفتوى، وكذا قال في البحر في فصل الوكيل والفضولي أن المختار في المذهب خلاف ما قاله الخصاف، وإن كان الخصاف كبيرا. اه. وما ذكروه في المرأة يجري مثله في الرجل ففي الخانية قال الإمام ابن الفضل إن كان الزوج حاضرا مشارا إليه جاز ولو غائبا فلا ما لم يذكر اسمه واسم أبيه وجده، قال والاحتياط أن ينسب إلى المحلة أيضا، قيل له فإن كان الغائب معروفا عند الشهود؟ قال، وإن كان معروفا لا بد من إضافة العقد إليه، وقد ذكرنا عن غيره في الغائبة إذا ذكر اسمها لا غير وهي معروفة عند الشهود وعلم الشهود أنه أراد تلك المرأة يجوز النكاح. اه.
والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر: لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح للجهالة بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها فإنه لا يصح كما في التنجيس. اه.
*الدر المختار: (55/3، ط: سعيد)*
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی