سوال:
السلام علیکم، شیخ! میرا اور میرے شوہر کا ایک سال قبل نکاح ہوچکا ہے، لیکن ابھی تک ہماری رخصتی نہیں ہوئی اور ہم نے ساتھ رہنا شروع نہیں کیا۔ میرے شوہر بیرونِ ملک رہتے ہیں اور اکثر مجھ سے مخصوص قسم کی تصاویر بھیجنے کے لیے کہتے ہیں۔
شیخ! اگر میں ایسی تصاویر بھیجنے سے انکار کروں تو کیا میں گناہ گار ہوں گی؟ کیا یہ جسمانی تعلق قائم کرنے سے انکار کرنے کے حکم میں ہے یا عمومی طور پر میرے لیے اس قسم کی تصاویر بنانا یا بھیجنا ہی جائز نہیں ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اسلام نے حیا کو ایمان کا اہم حصہ قرار دیا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے اور دین اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے۔" (موطأ مالك، حدیث نمبر:950) شریعت میں بے حیائی پر مبنی تصاویر اور ویڈیوز بنانا حیا کے خلاف ہیں اور فحاشی کے دائرے میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فحاشی کو ہر صورت میں ناپسند فرمایا ہے، خواہ وہ کھلے عام ہو یا خفیہ، فرد کی سطح پر ہو یا معاشرے میں پھیلائی جا رہی ہو، فحاشی پھیلانے والوں سے متعلق قرآن شریف میں ارشاد ہے: "یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ (سورة النور، آیت نمبر: 19)
لہٰذا نکاح منعقد ہوجانے کے باوجود شوہر کو اپنی بیوی سے ایسی تصاویر طلب کرنے کا حق نہیں جن میں ستر یا جسم کے ایسے حصے ظاہر ہوتے ہوں جنہیں دوسروں سے چھپانا شرعاً لازم ہے، ایسی تصاویر بنانا ناجائز اور حیاء کے خلاف ہیں، اور بیوی سے دور ہونے کی صورت میں بیوی کے خاص حصوں کی تصویر دیکھنے سے شہوت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے گناہوں میں پڑنے کا بھی اندیشہ ہے، نیز ایسی تصاویر Leak ہو کر شرمندگی کا باعث بھی بن سکتی ہیں، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔
بیوی کا ایسی تصاویر بھیجنے سے انکار کرنا گناہ نہیں ہوگا اور اسے شوہر کے ازدواجی حق کی حق تلفی یا مباشرت سے انکار کے حکم میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (سورة الاعراف، الایة:33)*
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ
*قوله تعالی: (سورة النور، الایة:19)*
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ
*صحیح البخاری:(رقم الحدیث: 9)*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ.
*موطأ مالك - رواية محمد بن الحسن الشيباني: (ص335، ط: المكتبة العلمية)*
950 - أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ الزُّرَقِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْحَةَ الرُّكَانَيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ: «إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الإِسْلامِ الْحَيَاءُ»
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی