resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شوہر کا اجنبیہ عورت سے جذباتی تعلق (Emotional Infidelity) قائم رکھنے کا حکم اور بیوی کے لیے اس پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا حل

(62538-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں آپ سے اس لیے رابطہ کر رہی ہوں کہ اس وقت شدید ذہنی اذیت اور گہری پریشانی کی کیفیت سے گزر رہی ہوں، میرے شوہر گزشتہ چھ سال سے ایک ہی عورت کے ساتھ جذباتی تعلق (Emotional Infidelity) میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اب یہ تعلق جسمانی نہیں رہا، اس لیے یہ قابلِ قبول ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ وہ میرے اخراجات پورے کرتے ہیں اور مجھے رہنے کے لیے گھر فراہم کرتے ہیں، اس لیے مجھے ناراض یا رنجیدہ ہونے کا کوئی حق نہیں، میں خود کو بالکل ٹوٹا ہوا، تنہا اور اپنے جذبات کے حوالے سے بے قدر محسوس کرتی ہوں۔
مجھے اسلامی نقطۂ نظر سے اپنے حقوق کے بارے میں رہنمائی، اپنی تکلیف کے بارے میں تسلی اور اس صورتِ حال کو اپنی ذہنی صحت کے لیے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔

جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اگر واقعتاً درست ہیں تو شوہر کا مذکورہ نوعیت کا تعلق بھی اس عورت کے ساتھ رکھنا شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا شوہر پر لازم ہے کہ اس خلافِ شرع عمل سے سچے دل سے توبہ و استغفار کرکے مذکورہ عورت سے اپنا تعلق مکمل طور پر ختم کردے۔
نیز اس موقع پر آپ بھی اس پریشانی سے نجات کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا خوب اہتمام کریں اور ساتھ ہی اگر آپ کی طرف سے کوئی ایسا عمل یا رویّہ ہو جو آپ دونوں کے درمیان محبت، الفت اور باہمی تعلق میں کمی کا باعث بن رہا ہو تو اسے بھی لازمی طور پر دور کرنے کا مکمل اہتمام کریں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ ان امور پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ اس پریشانی کو دور فرمائیں گے اور آپ دونوں کے درمیان محبت اور الفت کی ایک خوش گوار فضا قائم ہو جائے گی۔
تاہم، اگر پھر بھی یہ مسئلہ حل نہ ہو تو خاندان کے بڑوں کو بٹھا کر ان کے سامنے یہ صورتِ حال رکھ لی جائے، اور ان کے ذریعے یہ مسئلہ حل کروانے کی کوشش کی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*القرآن الكريم: ((النور، الآية: 31)*
وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

*الفقه الإسلامي و أدلته: (6843/9، ط: دار الفكر)*
للزوجة حقوق مالية وهي المهر والنفقة، وحقوق غير مالية: وهي إحسان العشرة والمعاملة الطيبة، والعدل.................
والمراد من العشرة: ما يكون بين الزوجين من الألفة والاجتماع، ويلزم كل واحد من الزوجين معاشرة الآخر بالمعروف من الصحبة الجميلة، وكف الأذى، وألا يمطله حقه مع قدرته، ولا يظهر الكراهة فيما يبذله له، بل يعامله ببشر وطلاقة، ولا يتبع عمله مِنَّة ولا أذى؛ لأن هذا من المعروف، لقوله تعالى: ﴿وعاشروهن بالمعروف﴾ [النساء:١٩/ ٤] وقوله سبحانه: ﴿ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف﴾ [البقرة:٢٢٨/ ٢] قال أبو زيد: «تتقون الله فيهن كما عليهن أن يتقين الله فيكم» وقال ابن عباس: «إني لأحب أن أتزين للمرأة، كما أحب أن تتزين لي»؛ لأن الله تعالى يقول: ﴿ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف﴾ [البقرة:٢٢٨/ ٢].

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah