سوال:
مفتی صاحب! کیا کسی بھی وجہ جیسے کوئی اختلاف یا بلا وجہ بھی شادی کے چند سال بعد بیوی کی طرف سے حق مہر میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟ شریعت کے مطابق کیا یہ عمل صحیح ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نکاح کے وقت مہر کی جو مقدار زوجین کی باہمی رضامندی سے طے ہوجائے، اس کے بعد بیوی کو از خود اس میں اضافہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں محض باہمی اختلاف کی بناء پر شادی کے چند سال بعد بیوی کا مہر میں اضافے کا مطالبہ کرنا درست نہیں، البتہ اگر شوہر اپنی خوشی اور رضامندی سے بیوی کے مہر میں اضافہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحرالرائق: (159/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
صح النكاح بلا ذكره، وأقله عشرة دراهم فإن سماها أو دونها فلها عشرة بالوطء أو بالموت وبالطلاق قبل الدخول يتنصف…وما فرض بعد العقد، أو زيد لا ينتصف وصح حطها۔
الدرالمختار مع رد المحتار: (113/3، ط: سعید)
(وما فرض) بتراضيهما أو بفرض قاض مهر المثل (بعد العقد) الخالي عن المهر (أو زيد) على ما سمي فإنها تلزمه بشرط قبولها في المجلس أو قبول ولي الصغيرة ومعرفة قدرها وبقاء الزوجية على الظاهر. نهر ….. (لا ينصف) لاختصاص التنصيف بالمفروض في العقد بالنص۔
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچی