سوال:
میرا ایک سوال ہے: اگر کسی لڑکی کا پہلے سے نکاح ہوچکا ہو، لیکن ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو، پھر وہ گھر سے بھاگ کر کسی دوسرے لڑکے سے جاکر نکاح کرلے تو کیا دوسرا نکاح شرعاً معتبر ہوگا یا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں میں اگر لڑکی کا پہلا نکاح شرعی طور پر درست طریقے سے کیا گیا تھا اور وہ نکاح اب تک برقرار ہے، یعنی پہلے شوہر نےنہ اسے طلاق دی ہے، اور نہ ہی ان دونوں کا نکاح کسی شرعی سبب سے ختم ہوا ہے تو صرف رخصتی نہ ہونے کی وجہ سے پہلا نکاح ختم نہیں ہوا۔
لہٰذا ایسی صورت میں اس لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً باطل ہے، یعنی یہ نکاح نہیں ہوا، کیونکہ ایک عورت بیک وقت دو مردوں کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔
البتہ اگر رخصتی (صحبت/ خلوتِ صحیحہ) سے پہلے شوہر سے شرعی طریقے کے مطابق طلاق یا فسخِ نکاح ہوچکا ہوگیا تھا تو اس کے بعد نئے شخص سے تمام شرعی شرائط کی رعایت کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الھندیة: (280/1، ط: دار الفکر)*
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره.
*حاشية ابن عابدين = رد المحتار: (مطلب في النكاح الفاسد، 3/ 132، ط: الحلبي)*
*أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.* قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اه.»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی