سوال:
میرے مہر فاطمی سے متعلق چند سوالات ہیں:
1) مہرِ فاطمی کی مکمل تاریخ کیا ہے؟
2) کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی زرہ فروخت کرکے مہر ادا کیا تھا، اور پھر حضرت عثمانؓ نے وہ رقم حضرت علی کو ہدیہ میں دے دی تھی؟
3) کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر نکاح کے وقت ادا کیا گیا تھا یا نکاح کے بعد مؤخر (ادھار) رکھا گیا تھا؟
4) نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا مہرِ فاطمی کو نکاح کے وقت ہی ادا کرنا سنت ہے یا مہر کو بعد میں ادا کرنا بھی جائز ہے؟ براہِ کرم قرآن، حدیث اور معتبر کتبِ سیرت و فقہ کے حوالے سے تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) کتبِ حدیث و سیرت میں یہ مذکور ہے کہ جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے نکاح کی خواہش ظاہر کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ مہر کے لیے ان کے پاس کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ان کے پاس ایک گھوڑا اور زرہ (ڈھال) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "گھوڑا تو تمہاری ضرورت ہے، البتہ اپنی زرہ فروخت کر دو۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ زرہ فروخت کرکے اس کی رقم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دی۔ (صحيح ابن حبان: 393/15)
*"مہرِ فاطمی" کی وجہ تسمیہ:*
رسول اللہ ﷺ نے اپنی لختِ جگر سیدہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا، اپنی دیگر صاحبزادیوں اور اکثر ازواجِ مطہّرات رضی اللہ عنہن کے نکاح میں جو مہر مقرر فرمایا تھا، وہ "مہرِ فاطمی" کہلاتا ہے۔
*مہرِ فاطمی کی مقدار:*
"مہرِ فاطمی" کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے "مہر فاطمی" پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی بنتی ہے۔ اور آج کل کے مروّجہ گرام کے حساب سے ایک کلو پانچ سو تیس (530) گرام اور نو سو (900) ملی گرام چاندی بنتی ہے۔
2) یہ بات صرف اہلِ تشیع کی کتب میں مذکور ہے، اس لیے اس کے بیان میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
3) نکاح کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ فروخت کرکے اس کی قیمت سے مہر ادا کیا، جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر نکاح کے وقت ادا کیا گیا، یعنی وہ مہرِ معجل تھا۔
4) واضح رہے کہ مہرِ فاطمی سے مراد مہر کی ایک مخصوص مقدار پانچ سو (500) درہم چاندی ہے، یہ مقدار خواہ نکاح کے وقت بطورِ مہرِ معجّل ادا کی جائے یا بعد میں بطورِ مہرِ مؤجّل، دونوں صورتوں میں مہرِ فاطمی ہی شمار ہوگی، البتہ چونکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر معجل تھا، اس لیے سنت کے زیادہ موافق یہ ہے کہ یہ مقدار معجل ادا کی جائے، لیکن اگر کسی نے یہ مخصوص مقدار مؤجل ادا کی، تب بھی مہر فاطمی ہی کہلائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحیح مسلم: (باب الصداق و جواز کونه تعلیم قران، رقم الحدیث: 1426، 1042/2، ط: دار احياء التراث العربي)*
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ کَمْ کَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اﷲِ؟ قَالَتْ *کَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَةً وَنَشًّا* قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَةٍ *فَتِلْکَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اﷲِ لِأَزْوَاجِهِ*.
*مسند احمد: (مسند الخلفاء الراشدين، مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه، رقم الحدیث: 340)*
حدثنا سفيان ، عن ايوب ، عن ابن سيرين ، سمعه من ابي العجفاء ، سمعت عمر ، يقول: لا تغلوا صدق النساء، فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا، او تقوى في الآخرة، لكان اولاكم بها النبي صلى الله عليه وسلم،" *ما انكح شيئا من بناته ولا نسائه فوق اثنتي عشرة وقية* ". واخرى تقولونها في مغازيكم: قتل فلان شهيدا، مات فلان شهيدا، ولعله ان يكون قد اوقر عجز دابته، او دف راحلته ذهبا وفضة، يبتغي التجارة، فلا تقولوا ذاكم، ولكن قولوا كما قال محمد صلى الله عليه وسلم:" من قتل في سبيل الله، فهو في الجنة".
*مصنف ابن ابی شیبہ: (رقم الحدیث: 16373، 493/3، ط: مکتبة الرشد)*
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاهِيْمَ قَالَ *صَدَاقُ بَنَاتٍ النَّبِيِّ وَصَدَاقُ نِسَائِهِ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ*.
*الطبقات الکبری: (22/8، ط: دار صادر)*
اِثْنَيْ عَشَرَ أَوْقِيَةَ وَنِصْفًا.
*صحيح ابن حبان: (15 / 393، ذكر وصف تزويج علي بن أبي طالب فاطمة رضي الله عنها وقد فعل، مؤسسة الرسالة،بيروت)*
"عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة عن أنس بن مالك، قال: جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم ... قال علي: فأتياني وأنا أعالج فسيلا لي، فقالا: إنا جئناك من عند ابن عمك بخطبة، قال علي: فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقعدت بين يديه، فقلت: يا رسول الله، قد علمت قدمي في الإسلام ومناصحتي، وإني وإني، قال: "وما ذاك"؟ *قلت: تزوجني فاطمة، قال: "وعندك شيء" قلت: فرسي وبدني، قال: "أما فرسك، فلا بد لك منه، وأما بدنك فبعها" قال" فبعتها بأربع مائة وثمانين، فجئت بها حتى وضعتها في حجره*."
*مسند أبي يعلى الموصلي: (1 / 362، مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه، دار المأمون للتراث - دمشق)*
"قال: لما تزوجت فاطمة قلت: يا رسول الله، ما أبيع، فرسي أو درعي؟ قال: «بع درعك» *فبعتها بثنتي عشرة أوقية فكان ذاك مهر فاطمة*."
*الهندية: (318/1، ط: دار الفكر)*
ولو قال نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم لا يجوز الأجل ويجب حالا وقال بعضهم يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالموت أو بالطلاق وروى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - ما يؤيد هذا القول، كذا في البدائع.
لاخلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه قال بعضهم يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط. وبالطلاق الرجعي يتعجل المؤجل ولو راجعها لا يتأجل، كذا أفتى الإمام الأستاذ، كذا في الخلاصة.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی