سوال:
السلام علیکم! دو بیویوں کا شوہر دونوں کی رہائش کے لیے الگ الگ گھر الگ الگ شہروں میں بنانے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اگر رہائش میں بھی مساوات لازم ہے، قطع نظر اس سے کہ ایک بیوی نسبتاً مالدار خاندان سے ہو تو ایسے گھر بنانے میں مساوات کی کیا صورت ہوگی؟ کیا رقبے، اندرونی و بیرونی سہولیات، کوالٹی وغیرہ میں مساوات لازم ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شہر میں زمین کی قیمت اور گھر بنانے کا خرچہ ایک سے زیادہ ہے۔ مثلاً اگر دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ پر بنائے گا تو سائز، سہولیات وغیرہ میں مساوات نہ ہوگی اور اگر سائز و سہولیات وغیرہ میں مساوات کرے گا تو دونوں گھر بنانے کی قیمت میں مساوات نہ ہوگی تو ایسی صورت میں مساوات کے لیے اعتبار قیمت کا ہوگا یا سائز، سہولیات وغیرہ کا؟
یہ بھی بتاییے کہ اگر اِس گھر بنانے کے معاملے میں مساوات نہ کرے، خواہ قیمتاً ہو یا سائز وغیرہ کے لحاظ سے تو کیا یہ شرعاً ظلم شمار ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ دونوں بیویوں کے لیے عرف کے مطابق الگ رہائش کا بندوبست کرنا شوہر کی ذمّہ داری ہے، جہاں ضروریاتِ زندگی سے متعلق تمام سہولیات مہیا ہوں، البتہ رہائش کے گھر میں خرچہ بھی برابر ہوا ہو یا وہ بالکل ایک جیسے بنے ہوئے ہوں، اس میں مساوات لازم نہیں ہے، اس لیے اگر شوہر اپنے اور عورت کے مالی حالات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق الگ الگ شہروں میں رہائش کا انتظام کرتا ہے تو یہ جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (202/3، ط: دار الفكر)
(قَوْلُهُ وَفِي الْمَلْبُوسِ وَالْمَأْكُولِ) أَيْ وَالسُّكْنَى، وَلَوْ عَبَّرَ بِالنَّفَقَةِ لَشَمِلَ الْكُلَّ. ثُمَّ إنَّ هَذَا مَعْطُوفٌ عَلَى قَوْلِهِ فِيهِ، *وَضَمِيرُهُ لِلْقَسْمِ الْمُرَادُ بِهِ الْبَيْتُوتَةُ فَقَطْ بِقَرِينَةِ الْعَطْفِ وَقَدْ عَلِمْت أَنَّ الْعَدْلَ فِي كَلَامِهِ بِمَعْنَى عَدَمِ الْجَوْرِ لَا بِمَعْنَى التَّسْوِيَةِ فَإِنَّهَا لَا تَلْزَمُ فِي النَّفَقَةِ مُطْلَقًا. *قَالَ فِي الْبَحْرِ: قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: يَجِبُ عَلَيْهِ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْحُرَّتَيْنِ وَالْأَمَتَيْنِ فِي الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ وَالْمَلْبُوسِ وَالسُّكْنَى وَالْبَيْتُوتَةِ، *وَهَكَذَا ذَكَرَ الْوَلْوَالِجِيُّ وَالْحَقُّ أَنَّهُ عَلَى قَوْلِ مَنْ اعْتَبَرَ حَالَ الرَّجُلِ وَحْدَهُ فِي النَّفَقَةِ. وَأَمَّا عَلَى الْقَوْلِ الْمُفْتَى بِهِ مِنْ اعْتِبَارِ حَالِهِمَا فَلَا فَإِنَّ إحْدَاهُمَا قَدْ تَكُونُ غَنِيَّةً وَالْأُخْرَى فَقِيرَةً، فَلَا يَلْزَمُ التَّسْوِيَةُ بَيْنَهُمَا مُطْلَقًا فِي النَّفَقَةِ.* اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی