resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شوہر کا بیوی کو بار بار طلاق کی دھمکیاں دینا

(46204-No)

سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم عالم صاحب! میرا سوال نکاح اور ازدواجی زندگی سے متعلق ہے, براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
میری صورتحال:
میری شادی کو تقریباً دو سال ہو چکے ہیں، الحمد للہ ہماری ایک بیٹی بھی ہے۔ میرے شوہر بار بار جھوٹ بولتے ہیں، خواہ چھوٹی بات ہو یا بڑی۔ جب میں ان سے حقیقت معلوم کرنا چاہتی ہوں تو وہ بات کو ٹال دیتے ہیں۔ جب میں ادب و احترام کے ساتھ یہ کہتی ہوں کہ "جھوٹ سے میرا دل دکھتا ہے، براہِ کرم مجھ سے سچ بولا کریں" تو وہ فوراً کہتے ہیں: "میں تمہیں بغیر کسی شرط کے رکھنا چاہتا ہوں، ورنہ چھوڑ دوں گا یا طلاق دے دوں گا۔"
ان کی اس دھمکی کی وجہ سے میں اپنی بات بھی نہیں کہہ پاتی, مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں میرا گھر نہ ٹوٹ جائے، جبکہ ہماری بیٹی بھی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ میرے گھر والے چاہتے ہیں کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات کو محدود کر لوں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ آخرکار مجھے چھوڑ ہی دیں گے, لیکن میرے لیے یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ایک بیوی اپنے شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے اس سے تعلقات کیسے محدود کر سکتی ہے؟ میں اس معاملے میں شدید ذہنی کشمکش، پریشانی اور الجھن کا شکار ہوں۔
میرے سوالات:
1) اسلام کی روشنی میں کیا شوہر کا بیوی کو بار بار طلاق کی دھمکی دے کر اپنی بات منوانا درست ہے؟ کیا یہ ظلم کے زمرے میں آتا ہے؟
2) میں اپنا گھر بھی بچانا چاہتی ہوں اور اپنی عزتِ نفس اور ذہنی سکون کو بھی برقرار رکھنا چاہتی ہوں۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا اپنی جائز حدود (Boundaries) قائم کرنا گناہ ہے؟
3) اگر میرے شوہر اپنی عادتیں بدلنے پر آمادہ نہ ہوں تو شریعت کی روشنی میں میرے لیے کیا راستہ ہے؟ کیا میرے پاس خلع کا اختیار موجود ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی شرائط کیا ہیں؟
4) اپنی اور اپنی بیٹی کی دینی، ذہنی اور جسمانی حفاظت کے لیے مجھے کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟
میں لڑائی یا علیحدگی نہیں چاہتی، بلکہ میری خواہش صرف یہ ہے کہ عزت، اعتماد اور سکون کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

جواب: واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ اسلام میں ایک نہایت مقدّس اور بابرکت رشتہ ہے، جس کی بنیاد محبت، اعتماد اور حسنِ معاشرت پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے سکون، راحت اور اطمینان کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ جب ازدواجی زندگی میں سچائی، اعتماد اور اچھے اخلاق موجود ہوں تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، لیکن اگر جھوٹ اور بد اعتمادی جیسے منفی عوامل شامل ہو جائیں تو یہ رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے اور گھریلو زندگی کا سکون متاثر ہو جاتا ہے، عام حالات میں بھی جھوٹ بولنا سخت ناپسندیدہ اور گناہ کا کام ہے، اور خصوصاً ازدواجی زندگی میں جھوٹ اعتماد اور اس رشتے کو مجروح کرتا ہے۔
اسی طرح بیوی کو بار بار طلاق کی دھمکی دے کر اپنی بات منوانا بالکل غیر مناسب عمل ہے، اگر شوہر ہر معمولی بات پر طلاق کی دھمکی دے کر بیوی کو ذہنی دباؤ اور اذیت میں مبتلا رکھے تو یہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، حالانکہ شریعتِ مطہّرہ نے شوہر کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ نرمی، محبت اور بھلائی کا معاملہ کرے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے۔
لہٰذا ان حالات میں بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے سامنے صبر، حکمت اور حسنِ اخلاق سے کام لے، مناسب موقع پر نرمی کے ساتھ اپنی بات پیش کرے۔
اگر براہِ راست بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہو تو خاندان کے کسی سمجھدار اور غیر جانبدار فرد کو ثالث بنایا جائے، تاکہ افہام و تفہیم کے ذریعے اختلافات کو ختم کیا جا سکے اور باہمی تعلقات میں بہتری پیدا ہو۔
اس کے ساتھ بیوی کو صبر، دعا اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے اور اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینے چاہیے، ان شاء اللہ! اللہ تعالیٰ کی معیّت شامل حال رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الآیة: 19)
وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا o

و قوله تعالیٰ: (النساء، الآية: 35)
وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۗ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا o

سنن ابن ماجه: (بَابُ حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ، رقم الحدیث: 1977)
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي ".

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah