سوال:
میری شادی کو تقریباً 10 سال ہو چکے ہیں اور ہمارے بچے بھی ہیں۔ تقریباً ایک سال پہلے میرے شوہر مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ گئے تھے، اس دوران انہوں نے ایک طلاق بھی دی، پھر رجوع کر لیا، لیکن اس کے باوجود آج تک مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھا اور نہ ہی میرے لیے علیحدہ رہائش کا مناسب انتظام کیا۔
تقریباً 6 ماہ سے میرے شوہر بچوں کو بھی مجھ سے لے گئے ہیں اور انہیں اپنے بھائی کے گھر چھوڑ رکھا ہے، جبکہ خود دوسرے شہر میں کام کرتے ہیں۔ میں بار بار کہتی ہوں کہ اگر وہ مجھے واپس لے جانا چاہتے ہیں تو میرے والدین کے گھر آ کر عزت کے ساتھ لے جائیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے اور بعض ایسے رشتہ داروں کے گھر بلاتے ہیں جن سے ہمارے تعلقات نہیں ہیں۔
میرے سسرال میں اکثر جھگڑے ہوتے ہیں اور میرے دیور نے کئی مرتبہ مجھے اور میرے والدین کو برا بھلا کہا، لیکن میرے شوہر نے اس معاملے میں کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔
میرے سوالات یہ ہیں:
1) کیا اسلام میں شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طویل عرصہ والدین کے گھر چھوڑ دے اور نہ اپنے ساتھ رکھے اور نہ اس کے حقوق ادا کرے؟
2) کیا شوہر پر بیوی کے لیے رہائش (گھر) اور نان و نفقہ فراہم کرنا لازم ہے؟
3) کیا شوہر بچوں کو ماں سے الگ کرکے طویل عرصے تک اپنے پاس یا دوسروں کے پاس رکھ سکتا ہے؟
4) کیا کسی دوسری بہن یا رشتہ دار کے ساتھ ہونے والے معاملات کا بدلہ اپنی بیوی سے لینا شرعاً درست ہے؟
5) اگر شوہر بیوی کو نہ طلاق دیتا ہو اور نہ ہی باقاعدہ اپنے ساتھ رکھتا ہو تو شریعت میں اس صورتِ حال کا کیا حکم ہے؟
6) کیا شوہر کا یہ مطالبہ درست ہے کہ بیوی اپنے گھر سے آنے کے بجائے کسی دوسرے رشتہ دار کے گھر پہنچے، جبکہ بیوی چاہتی ہو کہ شوہر اسے اس کے والدین کے گھر سے عزت کے ساتھ لے جائے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائے۔ آمین
جواب:
واضح رہے کہ شریعت میں میاں بیوی پر ایک دوسرے کے لیے کئی حقوق لازم کیے گئے ہیں، جن کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری ہے، اس وضاحت کے بعد آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں:
1/5) شوہر کے لیے بلاعذر اپنی بیوی کو طویل عرصے تک والدین کے گھر اس طرح چھوڑ دینا کہ نہ اپنے ساتھ بسائےاور نہ اس کے ازدواجی حقوق ادا کرے شرعاً درست نہیں، شریعت کا حکم ہے کہ یا تو حسنِ سلوک کے ساتھ اپنے ساتھ بسائے، یا احسان اور خوش اسلوبی کے ساتھ علیحدگی اختیار کی جائے، اور ازدواجی زندگی قائم رکھنے اور اپنے ساتھ بسائے رکھنے کی صورت میں میاں بیوی پر ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ معاشرت کا اہتمام اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔
2) جی ہاں، اگر بیوی ناشزہ (نافرمان) نہ ہو تو اس کے لیے عرف کے مطابق مناسب رہائش، نان و نفقہ اور دیگر ضروری اخراجات فراہم کرنا شوہر کی شرعی ذمہ داری ہے۔
3/4) بچوں کو بلا وجہ طویل عرصے تک ماں سے الگ رکھنا درست نہیں، نیز کسی دوسرے شخص یا رشتہ دار کے عمل کا بدلہ بھی اپنی بیوی سے لینا شرعاً جائز نہیں، ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
6) اگر بیوی اپنے والدین کے گھر موجود ہو اور شوہر اسے واپس لانا چاہے، تو بہتر اور مناسب یہی ہے کہ وہ اس کے والدین کے گھر جا کر عزت و احترام کے ساتھ اسے اپنے گھر لے جائے، البتہ اگر باہمی رضامندی سے کسی دوسری مناسب جگہ سے آنے پر اتفاق ہو جائے تو اس میں بھی شرعاً گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (آل عمران، الآية: ١٠٢)*
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ ●﴾
*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ٢٢٨)*
﴿۔۔۔ وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ●﴾
*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ٢٣٣)*
﴿۔۔۔ وَعَلَى ٱلۡمَوۡلُودِ لَهُۥ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ لَا تُكَلَّفُ نَفۡسٌ إِلَّا وُسۡعَهَاۚ ۔۔۔●﴾
*صحيح البخاري: (3/ 39، رقم الحديث: 1974، ط: دار طوق النجاة)*
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ : حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما قَالَ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي: إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَقُلْتُ: وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟ قَالَ: نِصْفُ الدَّهْرِ.»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی