سوال:
محترم! میں آپ سے اپنے ایک ذاتی اور اہم معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
میں ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا۔ ہم دونوں نے اپنی اپنی فیملی کو نکاح کے لیے راضی کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن تقریباً 6 سے 7 سال کی مسلسل کوشش کے باوجود دونوں خاندان راضی نہ ہو سکے، ابتدا میں میری فیملی راضی نہیں ہو رہی تھی، بعد میں لڑکی کی فیملی نے بھی اس رشتے سے انکار کر دیا۔
حرام سے بچنے کی نیت سے ہم نے ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کیا، کیونکہ اس وقت میں دبئی میں تھا اور لڑکی پاکستان میں تھی، نکاح کی مجلس دبئی میں تھی، میں خود نکاح کی مجلس میں موجود تھا اور لڑکی کا وکیل بھی مجلس میں موجود تھا، نکاح سے لڑکی نے میرے ایک دوست کو اپنا وکیل مقرر کیا، جبکہ لڑکی ویڈیو کال پر تھی، وکیل نے لڑکی کی طرف سے ایجاب کیا، نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں ہوا، جس میں ایجاب و قبول کیا گیا، ایجاب و قبول کے وقت لڑکی سے بھی براہِ راست پوچھا گیا اور اس کے وکیل سے بھی اور دونوں نے رضامندی ظاہر کی، اس موقع پر مہر بھی باقاعدہ طور پر مقرر کیا گیا۔
بعد ازاں لڑکی نے اہلِ حدیث مکتبِ فکر اختیار کیا اور کچھ قرآنی آیات اور احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا، اس وجہ سے وہ اب اس نکاح کو تسلیم نہیں کر رہی اور اس کی نظر میں یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے درمیان ہونے والا یہ نکاح شرعاً درست اور منعقد ہو چکا ہے یا نہیں؟
لڑکی کا نکاح اگر کسی اور سے ہوتا ہے تو کیا وہ باطل ہو گا؟ براہِ کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔
جواب: واضح رہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً ناپسندیدہ عمل ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں اکثر معاشرتی اور خاندانی مسائل پیدا ہوتے ہیں جو فریقین کے لیے تکلیف اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے بہتر اور مناسب یہی ہے کہ نکاح سے پہلے والدین یا دیگر اولیاء کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کی رضامندی سے نکاح کیا جائے، تاہم اگر کوئی بالغہ عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر کسی شخص سے نکاح کرلے تو راجح (صحیح) قول کے مطابق یہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے، البتہ اگر نکاح غیرِ کفو میں ہوا ہو، یعنی لڑکا دین، نسب، مال یا پیشے کے اعتبار سے لڑکی کے برابر نہ ہو تو لڑکی کے ولی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اولاد ہونے سے پہلے عدالت کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کروادے، اگر ولی اس مدّت میں اپنے اس حق کو استعمال نہ کرے اور اس دوران اولاد ہوجائے تو اس کا حقِ فسخ ختم ہوجاتا ہے، لیکن اگر نکاح کفو میں ہوا ہے تو لڑکی کے اولیاء کو فسخ کا حق بھی حاصل نہیں ۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں نکاح تو منعقد ہوچکا ہے، البتہ اگر نکاح غیر کفو میں ہوا ہے تو لڑکی کے اولیاء کو اولاد ہونے تک عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہے، البتہ جب تک عدالت اس نکاح کو فسخ نہ کرے یا شوہر کی جانب سے طلاق واقع نہ ہوجائے، اس وقت تک عورت کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ وہ بدستور اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*بدائع الصنائع: (247/2، ط: دار الكتب العلمية)*
وأما ولاية الندب والاستحباب فهي: الولاية على الحرة البالغة العاقلة بكرا كانت أو ثيبا في قول أبي حنيفة وزفر وقول أبي يوسف الأول، وفي قول محمد وأبي يوسف الآخر الولاية عليها ولاية مشتركة.
وعند الشافعي هي ولاية مشتركة ... وعلى هذا يبنى الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض".
*الهندية: (292/1، ط: دار الفکر)*
"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق، ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي، أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما".
*رد المحتار: (55/3، ط:دار الفکر)*
(قوله فنفذ إلخ) أراد بالنفاذ الصحة وترتب الأحكام من طلاق وتوارث وغيرهما لا اللزوم، إذ هو أخص منها لأنه ما لا يمكن نقضه وهذا يمكن رفعه إذا كان من غير كفء، فقوله في الشرنبلالية أي ينعقد لازما في إطلاقه نظر.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی