resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تین سال کی عمر میں دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم

(45202-No)

سوال: میری والدہ میری بہن کو دودھ پلاتی تھیں، اس وقت میری بہن کی عمر تقریباً 3 ماہ تھی، اسی دوران میری پھوپھو کی بیٹی (جس کی عمر تقریباً 3 سال تھی)نے بھی میری والدہ کا دودھ پیا تھا، اسی طرح میری پھوپھو نے بھی میری بہن کو دودھ پلایا تھا، اس وقت میری پیدائش نہیں ہوئی تھی، بعد میں میری بہن کا انتقال ہو گیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی اسی پھوپھو کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں؟ کیا وہ میری رضاعی بہن شمار ہوگی یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کے لیے مدتِ رضاعت (ڈھائی سال) کے اندر دودھ پینا ضروری ہے، اگر مدتِ رضاعت ختم ہونے کے بعد دودھ پیا جائے تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکورہ لڑکی نے مدتِ رضاعت ختم ہونے کے بعد تین سال کی عمر میں آپ کی والدہ کا دودھ پیا ہے، اس لیے شرعاً آپ دونوں کے درمیان رضاعت کا رشتہ ثابت نہیں ہوا، لہٰذا آپ دونوں کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

*«الهداية في شرح بداية المبتدي»: (1/ 217، ط: دار احیاء التراث العربي)*
قال: "وإذا مضت مدة الرضاع لم يتعلق بالرضاع تحريم" لقوله عليه الصلاة والسلام "لا رضاع بعد الفصال" ولأن الحرمة باعتبار النشوء وذلك في المدة إذ الكبير لا يتربى به.

*کذا في فتاوی دار العلوم کراتشي: رقم الفتوی: (70/498)*

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah