سوال:
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته! مفتی صاحب! میری ایک شادی ہوئی ہے، اب دوسری کا ارادہ ہے تو کیا منگنی سے پہلے میں لڑکی کو دیکھ سکتا ہوں؟ اور کیا دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے؟ الحمدللہ نان نفقہ کی ترتیب ٹھیک ہے، چونکہ میرا مزاج مختلف ہے اگر نہ دیکھ سکوں تو پھر محبت اور زندگی کا وہ مزہ نہیں آتا، پہلے کے ساتھ کافی اچھا برتاؤ ہے۔ الحمدللہ!
جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہّرہ میں جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو، اسے شادی سے پہلے ایک نظر دیکھنا شرعاً جائز ہے، چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے دور میں ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجا، نبیﷺ نے فرمایا: ”کیا تونے اسے دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دیکھ لے، اس طریقے سے تمہارے درمیان محبت والفت پیدا ہونا زیادہ ممکن ہوگا۔“ (سنن النسائی، حدیث نمبر: 3235)
نیز اگر دوسری شادی کرنے والے شخص میں دونوں بیویوں کے نان و نفقہ اور دیگر شرعی حقوق ادا کرنے کی استطاعت ہو اوران کے درمیان عدل و انصاف کرسکتا ہو تو وہ دوسری شادی کر سکتا ہے، اس کے لیے پہلی بیوی کی اجازت یا رضامندی ضروری نہیں ہے۔
تاہم حسنِ معاشرت اور گھریلو مصلحت کے پیشِ نظر بہتر یہی ہے کہ دوسری شادی سے پہلے پہلی بیوی کو اعتماد میں لے لیا جائے، تاکہ شادی کے بعد پہلی بیوی بچوں سے اختلافات اور گھریلو نزاعات پیش نہ آئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الایة: 3)
فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً ۔۔۔ الخ
سنن النسائي: (رقم الحدیث: 3235، ط: المطبوعات الاسلامية)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : خَطَبْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ " قُلْتُ : لَا. قَالَ : " فَانْظُرْ إِلَيْهَا ؛ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا ".
رد المحتار: (370/6، ط: دار الفکر)
قوله : بنية السنة ۔۔۔ ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها لقوله عليه الصلاة والسلام للمغيرة بن شعبة حين خطب امرأة «انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» رواه الترمذي والنسائي وغيرهما.
سنن ابی داود: (رقم الحدیث: 2133، ط: دار الرسالة العالمیة)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ۔
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچی