سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! قانون یہ ہے کہ اگر دیوانی عدالت کوئی مقدمہ فیصلہ کرتی ہے اوراگر اس فیصلے کے خلاف اپیل ہو جائے تو جب تک وہ اپیل فیصلہ نہ ہو جائے اور اسے دوام نہ مل جائے (یعنی وہ فیصلہ حرف آخر نہ بن جائے) تب تک یہی تصور کیا جاتا ہے کہ ماتحت عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ قابل عمل نہیں ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر فیملی کورٹ(عدالت) اگر بیوی کو طلاق/خلع بوجہ ظلم و زیادتی یا باہمی رضا مندی فریقین دیتی ہے، لیکن بعد میں خاوند اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتا ہے اور عرصہ ایک سال (یا جتنا عرصہ بھی لگ جائے) وہ اپیل خاوند کے حق میں فیصلہ ہو جائے(یعنی ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے) تو کیا صورتحال ہوگی جبکہ عدالت کے ذریعےدی گئی طلاق ایک طلاق تصور ہوتی ہے؟
1) آیا تجدید نکاح کی ضرورت ہوگی؟
2) یا بغیر تجدید نکاح کے رجوع کیا جا سکتا ہے؟
3) اگر اپیل فیصلہ ہونے سے پہلے اس عورت نےعدت پوری کرنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ہو تو ایسی صورت میں پہلے خاوند کے حق میں اپیلیٹ کورٹ نےجو فیصلہ دیا ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
4) اسی طرح اگر اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے وہ عورت دوسرے شوہر سے حاملہ ہو گئی ہو یا اس دوران بچہ پیدا ہو گیا ہو تو اس بچے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
5) اسی طرح دوسرے شخص سے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
6) دوسرے خاوند کی موجودگی میں اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کی کیا حیثیت ہوگی؟
مندرجہ بالا صورتحال سے ہٹ کر بھی کوئی اور صورت بنتی ہو تو اس حوالے سے بھی جواب عنایت فرما دیں، کیونکہ تمام سوالات ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور علیحدہ سے نہیں پوچھے جا سکتے، اس لئے برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ
جواب: مروّجہ ملکی قانون، اپیلوں کے قانونی ضابطوں اور عدالتی طریقۂ کار کو ایک طرف رکھ کر خالص فقہی اور شرعی اصولوں کی روشنی میں آپ کے مسائل کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) فقہِ حنفی اور جمہور فقہائے کرام کے اصولوں کے مطابق جب مسلم فیملی کورٹ (Muslim Family Court)، جو موجودہ نظام میں قاضی کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے، معتبر شواہد اور شرعی اسباب کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان تفریق کا فیصلہ صادر کر دے تو اس فیصلے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے اور عورت پر طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ فقہاء نے یہ اصول ذکر فرمایا ہے: ’’حکم القاضی ینفذ ظاہراً وباطناً‘‘ یعنی قاضی کا فیصلہ ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے نافذ ہو جاتا ہے۔
2) عدالتی تفریق چونکہ شرعاً طلاقِ بائن کے حکم میں ہوتی ہے، اس لیے اس کے بعد شوہر کا یک طرفہ حقِ رجوع باقی نہیں رہتا، لہٰذا بغیر نئے نکاح کے دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، بلکہ اگر دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہیں تو عورت کی رضا مندی، نئے مہر اور دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے سرے سے نکاح کرنا ضروری ہوگا، جسے تجدیدِ نکاح کہا جاتا ہے۔
3) جب قاضی کے فیصلے سے پہلا نکاح ختم ہو گیا تو عورت پر عدت واجب ہوگی، اور عدت مکمل ہونے کے بعد وہ شرعاً آزاد شمار ہوگی، اس لیے اس کا دوسرے شخص سے کیا گیا نکاح شرعاً صحیح، نافذ اور معتبر ہوگا، اور بعد میں اگر اپیلیٹ کورٹ (Appellate Court) پہلے فیصلے کو کالعدم قرار بھی دے دے، تب بھی اس سے دوسرا نکاح باطل نہیں ہوگا، کیونکہ شرعی اعتبار سے پہلا فیصلہ نافذ ہو چکا تھا اور عورت عدت گزار کر حلال ہو چکی تھی، لہٰذا وہ دوسرے شوہر ہی کی بیوی شمار ہوگی۔
4) چونکہ دوسرا نکاح شرعی طور پر صحیح وقت پر منعقد ہوا تھا، اس لیے اس نکاح کے دوران ہونے والا حمل اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد بھی شرعاً بالکل جائز، حلال اور صحیح النسب ہوگی، اس بچے کا نسب دوسرے شوہر ہی سے ثابت ہوگا، وہ اپنے والد کی وراثت کا مستحق ہوگا، اور اس پر کسی بھی صورت میں ولد الزنا کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
5) اسی طرح جب پہلا نکاح قاضی کے فیصلے سے ختم ہو کر عدت کے بعد دوسرا نکاح صحیح طور پر قائم ہو گیا تو بعد میں آنے والا ایسا فیصلہ جو پہلے نکاح کو بحال کرنے کا حکم دے، شرعی اعتبار سے ناقابلِ عمل ہوگا، کیونکہ اسلامی شریعت میں ایک عورت کا بیک وقت دو مردوں کے نکاح میں رہنا جائز نہیں، لہٰذا عورت دوسرے شوہر ہی کے نکاح میں رہے گی اور پہلے شوہر کے لیے اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہوگا۔
6) ہاں! فقہائے کرام نے ایک نادر استثنائی صورت بھی ذکر فرمائی ہے، اور وہ یہ کہ اگر عورت نے عدالت میں سراسر جھوٹ، مکر اور فریب سے کام لیا ہو، جھوٹے گواہ کھڑے کیے ہوں، اور حقیقت میں شوہر کی طرف سے کوئی ظلم یا شرعی سبب موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ دنیاوی اعتبار سے عدالت کا فیصلہ نافذ سمجھا جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں باطن میں نکاح ختم نہیں ہوگا، لہٰذا ایسی صورت میں عدت کے بعد دوسرا نکاح کرنا باطن میں جائز نہ ہوگا، تاہم اگر عدالت نے معتبر شواہد، واقعی نزاع، ظلم یا حقوق کی پامالی کی بنیاد پر تفریق کا فیصلہ دیا تھا تو پھر مذکورہ بالا تمام احکام پوری طرح نافذ ہوں گے، اور دوسرا نکاح، نیز اس سے پیدا ہونے والی اولاد شرعاً صحیح اور ثابت النسب سمجھی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن الکریم: (سورۃ النساء، آیت: 24)*
"وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ"
*صحیح مسلم، کتاب الرضاع:( باب الولد للفراش، رقم الحديث: 1457، دار إحياء التراث العربي، بيروت)*
"الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"
*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 419، ط: دار الفكر)*
تفريق القاضي عند إباء الزوج (طلاقا) بائنا.
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (2/ 264، ط:دار الكتب العلمية)*
بخلاف ما بعد انقضاء العدة؛ لأن هناك لم يبق شيء من علائق الزوج الأول فكان لها سبيل الوصول إلى زوج آخر.
*الجامع الصغير وشرحه النافع الكبير: (ص: 399، ط: عالم الكتب - بيروت)*
قضاء القاضي في العقود والفسوخ ينفذ ظاهرا وباطنا عند أبي حنيفة وأبي يوسف في قوله الأول وعنده في الآخر وعند محمد والشافعي ينفذ ظاهرا لا باطنا.
*مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (2/ 170، ط: دار إحياء التراث العربي)*
(والقضاء بحل أو حرمة ينفذ ظاهرا) أي فيما بيننا (وباطنا) أي فيما عند الله عند الإمام (ولو) وصلية (بشهادة زور إذا ادعي بسبب معين) من العقود والفسوخ كالنكاح، والطلاق، والبيع، والشراء، والإقالة، والرد بالعيب، والنسب، وفي الهبة والصدقة روايتان (وعندهما لا ينفذ باطنا بشهادة الزور) وإن نفذ ظاهرا وهو قول زفر والأئمة الثلاثة
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی