resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: پانچ ماہ کی بچی کی پرورش کا حق

(42098-No)

سوال: میری پانچ ماہ کی پوتی ہے، شوہر نے ایک ماہ پہلے بچی کو ماں سے زبردستی چھین کر 32 میل دور اپنے گھر رکھا ہوا ہے۔ ماں بچی کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے اور دودھ پلانے کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے تو ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب:
واضح رہے کہ نو سال کی عمر تک بچی کی پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے، اس کے بعد یہ حق والد کی طرف منتقل ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے کسی شرعی وجہ کے بغیر اپنی پانچ ماہ کی بچی کو بیوی سے دور لے جاکر رکھا ہوا ہے تو اس کے ذمّہ لازم ہے کہ وہ بچی کو اس کی والدہ کے حوالے کردے، تاکہ وہ اس کی پرورش اور دیکھ بھال کرسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الدر المختار: (556/3، ط: دار الفكر)*
(تثبت للأم) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا.

*الهندية: (542/1، ط: دار الفكر )*
والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce