resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: "تم خود کو مکمل طور پر آزاد اور رخصت سمجھو" کہنے سے طلاق کا حکم

(37732-No)

سوال: میرا اپریل 2023 میں اسلامی نکاح ہوا تھا، یہ نکاح زبانی تھا، ایک امام اور گواہوں کی موجودگی میں ہوا، لیکن اس کا کوئی تحریری سرٹیفکیٹ نہیں بنایا گیا، جنوری 2024 میں میں نے یہ تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا، میں نے براہِ راست طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے، لیکن میں نے درج ذیل پیغامات لکھے تھے اور اس وقت میری نیت طلاق ہی کی تھی، اس کے بعد سے میں اپنی بیوی سے نہیں ملا، کیا اسلامی اعتبار سے ہم دونوں کے درمیان درست طور پر طلاق واقع ہو چکی ہے؟
میں نے بیوی کو یہ پیغامات لکھے:
“مجھے اس تمام دباؤ اور پریشانی پر بہت زیادہ افسوس ہے جو میں نے اپنی صورتحال کی وجہ سے تم پر ڈال دی، اور اس تمام وقت پر بھی جو تم نے میرا انتظار کرتے ہوئے گزارا، آئندہ ایک سے دو سال میں میری حالت کے بدلنے کی کوئی امید نہیں ہے، اس عمل میں ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں اور معاملات دن بدن مزید بگڑتے جا رہے ہیں، جلد کسی حل کا امکان نہیں۔
براہِ کرم! اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ، تم بہت صابر اور مددگار رہی ہو، لیکن میں اس احساسِ جرم کو مزید برداشت نہیں کر سکتا کہ میں تمہاری زندگی کا اور وقت ضائع کروں جو کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں، تم میری اندھیری زندگی میں ایک روشن روشنی رہی ہو، میں ہمیشہ تمہاری قدر کروں گا اور تمہیں بہت اچھے انداز میں یاد رکھوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم خود کو مکمل طور پر آزاد اور رخصت سمجھو، اور اپنی زندگی میں آگے بڑھو، بغیر اس احساسِ جرم کے کہ تم مجھے اس حالت میں چھوڑ رہی ہو۔”

جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کی نیّت طلاق دینے کی تھی، اس لیے جب آپ نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے کہ "تم خود کو مکمل طور پر آزاد اور رخصت سمجھو" تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔
واضح رہے کہ دراصل لفظ "آزاد سمجھو" سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ "مکمل" کا اضافہ کرنے سے چونکہ کلام میں شدّت پیدا ہو گئی، اس لیے مذکورہ الفاظ سے طلاقِ رجعی کے بجائے طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔
طلاقِ بائن کے واقع ہو جانے کے بعد شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں رہتا، البتہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کر سکتے ہیں۔
نیز تجدیدِ نکاح کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار:(باب الكنايات،299/3،ط: سعید)
ﻓﺈﻥ ﺳﺮﺣﺘﻚ ﻛﻨﺎﻳﺔ ﻟﻜﻨﻪ ﻓﻲ ﻋﺮﻑ اﻟﻔﺮﺱ ﻏﻠﺐ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻪ ﻓﻲ اﻟﺼﺮﻳﺢ ﻓﺈﺫا ﻗﺎﻝ " ﺭﻫﺎﻛﺮﺩﻡ " ﺃﻱ ﺳﺮﺣﺘﻚ ﻳﻘﻊ ﺑﻪ اﻟﺮﺟﻌﻲ ﻣﻊ ﺃﻥ ﺃﺻﻠﻪ ﻛﻨﺎﻳﺔ ﺃﻳﻀﺎ، ﻭﻣﺎ ﺫاﻙ ﺇﻻ ﻷﻧﻪ ﻏﻠﺐ ﻓﻲ ﻋﺮﻑ اﻟﻔﺮﺱ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻪ ﻓﻲ اﻟﻄﻼﻕ ﻭﻗﺪ ﻣﺮ ﺃﻥ اﻟﺼﺮﻳﺢ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻌﻤﻞ ﺇﻻ ﻓﻲ اﻟﻄﻼﻕ ﻣﻦ ﺃﻱ ﻟﻐﺔ ﻛﺎﻧﺖ، ﻟﻜﻦ ﻟﻤﺎ ﻏﻠﺐ اﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺣﻼﻝ اﻟﻠﻪ ﻓﻲ اﻟﺒﺎﺋﻦ ﻋﻨﺪ اﻟﻌﺮﺏ ﻭاﻟﻔﺮﺱ ﻭﻗﻊ ﺑﻪ اﻟﺒﺎﺋﻦ ﻭﻟﻮﻻ ﺫﻟﻚ ﻟﻮﻗﻊ ﺑﻪ اﻟﺮﺟﻌﻲ.
ﻭاﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ اﻟﻤﺘﺄﺧﺮﻳﻦ ﺧﺎﻟﻔﻮا اﻟﻤﺘﻘﺪﻣﻴﻦ ﻓﻲ ﻭﻗﻮﻉ اﻟﺒﺎﺋﻦ ﺑﺎﻟﺤﺮاﻡ ﺑﻼ ﻧﻴﺔ ﺣﺘﻰ ﻻ ﻳﺼﺪﻕ ﺇﺫا ﻗﺎﻝ ﻟﻢ ﺃﻧﻮ ﻷﺟﻞ اﻟﻌﺮﻑ اﻟﺤﺎﺩﺙ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻥ اﻟﻤﺘﺄﺧﺮﻳﻦ

البحر الرائق:(مسائل متفرقة في الطلاق،548/8،ط: دار الكتاب الإسلامي)
قال - ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ - (ﻗﺎﻟﺖ اﻟﺰﻭﺟﺔ ﻟﺰﻭﺟﻬﺎ ﻣﺮا ﻃﻼﻕ ﺑﻐﻠﻲ) ﻳﻌﻨﻲ اﻋﻄﻨﻲ ﻃﻼقا (ﻓﻘﺎﻝ اﻟﺰﻭﺝ ﺩاﺩﻩ ﻛﻴﺮا ﻭﻛﺮﺩﻩ ﻛﻴﺮا ﻭﺩاﺩﻩ ﺑﺎﺩ ﻭﻛﺮﺩﻩ ﺑﺎﺩ ﻳﻨﻮﻱ ﻳﻘﻊ) ﻣﻌﻨﺎﻩ اﻻﻋﺘﺒﺎﺭ ﻟﻠﻨﻴﺔ ﻭﻋﺪﻣﻬﺎ ﻓﺈﻥ ﻧﻮﻯ ﺑﻬﺬﻩ اﻷﻟﻔﺎﻅ الطلاق ﻭﻗﻊ ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﻨﻮ ﻻ ﻳﻘﻊ

بدائع الصنائع:(في حكم الطلاق البائن،187/3،ط: دار الكتب العلمية)
ﻓﺎﻟﺤﻜﻢ اﻷﺻﻠﻲ ﻟﻤﺎ ﺩﻭﻥ اﻟﺜﻼﺙ ﻣﻦ اﻟﻮاﺣﺪﺓ اﻟﺒﺎﺋﻨﺔ، ﻭاﻟﺜﻨﺘﻴﻦ اﻟﺒﺎﺋﻨﺘﻴﻦ ﻫﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﺪﺩ اﻟﻄﻼﻕ، ﻭﺯﻭاﻝ اﻟﻤﻠﻚ ﺃﻳﻀﺎ ﺣﺘﻰ ﻻ ﻳﺤﻞ ﻟﻪ ﻭﻃﺆﻫﺎ ﺇﻻ ﺑﻨﻜﺎﺡ ﺟﺪﻳﺪ

مأخذه التبويب دار العلوم کراچی: فتویٰ نمبر:40/1817)

خیر الفتاویٰ:(کتاب الطلاق،101/5،ط: امدادیہ)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce