resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حمل کے دوران طلاق اور اسقاطِ حمل (Abortion ) کی شرعی حیثیّت

(39792-No)

سوال: میری بہن کی شادی ستمبر 2025 میں ہوئی تھی اور اب وہ چار ماہ کی حاملہ ہے۔ شوہر اور اس کے گھر والے بلا کسی معقول وجہ کے اسے طلاق دینا چاہتے ہیں اور حمل ضائع کروانے پر بھی زور دے رہے ہیں۔ میرے سوالات درج ذیل ہیں:
کیا شوہر اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے سکتا ہے؟ اور اگر دے تو کیا طلاق اسی وقت نافذ ہو جاتی ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔
چونکہ شوہر حمل ختم کرنے (بچے کو ضائع کرنے) کا کہہ رہا ہے، تو کیا اسلام میں ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو ضائع کرنا (اسقاطِ حمل) حلال ہے؟
کیا ماں بچے کو جنم دے سکتی ہے اور پوری زندگی اس کی قانونی اور شرعی سرپرست (گارڈین) بن سکتی ہے؟ اور کیا پاکستانی قانون کے تحت شوہر اپنے حقوق سے دستبردار ہو سکتا ہے؟
اگر اسلام میں یہ عمل حرام ہے اور شوہر پھر بھی حمل ضائع کروانے پر اصرار کرے، تو بچے کے قتل کا گناہ کس پر ہوگا؟ براہِ کرم ان تمام سوالات کا شرعی رہنمائی کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان مکمّل پیدا نہیں ہوتا، ہر شخص میں کسی نہ کسی حد تک کمزوری یا خامی موجود ہوتی ہے، اور زندگی کا حسن اسی بات میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خامیوں کو نظر انداز کر کے تعلّقات کو قائم رکھیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کا رشتہ چونکہ نہایت نازک اور حسّاس ہوتا ہے، اس لیے اس رشتے میں زیادہ صبر، درگزر اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا"
ترجمہ: "ان (اپنی بیویوں) کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللّٰہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بھلائی رکھ دی ہو۔" (سورۃ النساء: 19)

لہٰذا میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کو برداشت کرتے ہوئے محبّت اور درگزر سے کام لیں اور اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنائیں، کیونکہ بغیر کسی شرعی عذر کے بیوی کو طلاق دینا اللّٰہ تعالی کو ناپسند ہے، چنانچہ اسی سے متعلّق ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے فرمایا: "اللّٰہ تعالی کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور غُصّہ دلانے والی چیز طلاق ہے"۔ (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر:2178)
تاہم اگر طلاق دینا ناگزیر ہو جائے اور باہمی نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو شریعت کی رو سے حالتِ حمل میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ چار ماہ بعد حمل میں روح ڈال دی جاتی ہے، اور روح پڑ جانے کے بعد اسقاطِ حمل (Abortion) کروانا شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا اگر شوہر اسقاطِ حمل پر اصرار کرے تو عورت کے لیے اس کی بات ماننا شرعاً جائز نہیں ہے۔
مزید یہ کہ اگر مذکورہ صورت میں شوہر طلاق دیدے اور اس حمل سے پیدا ہونے والا اگر لڑکا ہو تو اس کا نان و نفقہ بالغ ہونے تک اور لڑکی ہو تو اس کا نان و نفقہ شادی تک باپ کے ذمّہ لازم ہوگا، اور اگر شوہر نان و نفقہ ادا کرنے پر راضی نہ ہو تو بیوی کو شرعاً قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم:(سورة النساء،الآية:19)
عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا

سنن لأبی داؤد: (باب فی کراھیة الطلاق، رقم الحدیث: 2178)
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ".

مسند احمد:(مسند علي بن أبي طالب،رقم الحديث:1095)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

ردّ المحتار: (باب الخلع،441/3،ط: سعید)
و في القھستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بین الزوجین اختلاف أن یجتمع أهلهما لیصلحوا بینهما، فإن لم یصطلحا جاز الطلاق و الخلع. و هذا هو الحکم المذکور في الآیة.

الدر المختار:(باب العدة،511/3،ط: دار الفكر)
(ﻭ) ﻓﻲ ﺣﻖ (اﻟﺤﺎﻣﻞ) ﻣﻄﻠﻘﺎ ﻭﻟﻮ ﺃﻣﺔ، ﺃﻭ ﻛﺘﺎﺑﻴﺔ، ﺃﻭ ﻣﻦ ﺯﻧﺎ ﺑﺄﻥ ﺗﺰﻭﺝ ﺣﺒﻠﻰ ﻣﻦ ﺯﻧﺎ ﻭﺩﺧﻞ ﺑﻬﺎ ﺛﻢ ﻣﺎﺕ، ﺃﻭ ﻃﻠﻘﻬﺎ ﺗﻌﺘﺪ ﺑﺎﻟﻮﺿﻊ ﺟﻮاﻫﺮ اﻟﻔﺘﺎﻭﻯ (ﻭﺿﻊ) ﺟﻤﻴﻊ (ﺣﻤﻠﻬﺎ)

المحيط البرهاني: (374/5، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)
وبعدما وصل الماء إلى رحمها إذا أرادت الإلقاء هل يباح لها ذلك: إن أرادت ذلك بعد مضي مدة ينفخ فيه الروح، فليس لها ذلك؛ لأنها تصير قاتلة؛ فإنه اعتبر هنا على غلبة الظاهر، فلا يحل لها كما بعد الانفصال، وإن أرادت الإلقاء قبل مضي مدة ينفخ فيه الروح؛ اختلف المشايخ فيه؛ قال بعضهم: يحل لها ذلك؛ لأن قبل مضي المدة التي ينفخ فيه الروح لا حكم لها، فهذا والعزل سواء.

الفتاوى الهندية:(في نفقة الأولاد،570/1،ط: دار الفكر)
ﻧﻔﻘﺔ اﻷﻭﻻﺩ اﻟﺼﻐﺎﺭ ﻋﻠﻰ اﻷﺏ ﻻ ﻳﺸﺎﺭﻛﻪ ﻓﻴﻬﺎ ﺃﺣﺪ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺠﻮﻫﺮﺓ اﻟﻨﻴﺮﺓ.

وفيه أيضاً:(في نفقة الأولاد،563/1،ط: دار الفكر)
ﻭﻧﻔﻘﺔ اﻹﻧﺎﺙ ﻭاﺟﺒﺔ ﻣﻄﻠﻘﺎ ﻋﻠﻰ اﻵﺑﺎء ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺘﺰﻭﺟﻦ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻟﻬﻦ ﻣﺎﻝ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺨﻼﺻﺔ.

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce