عنوان: مصنوعی طریقے سے بال بڑھانے (Artificial hair extensions) کے کاروبار کا حکم (13311-No)

سوال: کیا مصنوعی بالوں کی توسیع (artificial hair extensions) کا بزنس کرنا صحیح ہے؟
تنقیح
آپ کے سوال میں کچھ ابہام ہے، آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ Artificial hair extensions سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا اس میں بالوں کو اگایا جاتا ہے جو قدرتی طریقے سے بڑھتے رہتے ہیں یا اس میں کوئی وگ وغیرہ لگائی جاتی ہے؟ یا کوئی اور صورت اختیار کی جاتی ہے؟ مکمل تفصیل کے ساتھ بیان فرمائیں۔
اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔
جواب تنقیح:
حضرت! یہ ایک قسم کی وگ ہوتی ہے جس کو لگایا اور اتارا بھی جا سکتا ہے، یہ عموماً خواتین استعمال کرتی ہیں، اس کو بنانے میں انسانی بال اور artificial چیزوں کا استعمال ہوتا ہے۔

جواب: احادیث مبارکہ میں عورتوں کو انسان کے بالوں کو اپنے بالوں کے ساتھ ملانے سے منع کیا گیا ہے، سوال میں مذکورہ وگ کے بنانے میں چونکہ انسانی بال بھی استعمال ہوتے ہیں، اس لیے مذکورہ وگ کا پہننا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اور اس کا کاروبار کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (165/7، ط: دار طوق النجاۃ)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة".

بدائع الصنائع: (125/5، ط: دار الکتب العلمیة)
ويكره للمرأة أن تصل شعر غيرها من بني آدم بشعرها لقوله - عليه الصلاة والسلام - "لعن الله الواصلة والمستوصلة" ولأن الآدمي بجميع أجزائه مكرم والانتفاع بالجزء المنفصل منه إهانة له ولهذا كره بيعه ولا بأس بذلك من شعر البهيمة وصوفها لأنه انتفاع بطريق التزين بما يحتمل ذلك ولهذا احتمل الاستعمال في سائر وجوه الانتفاع فكذا في التزين.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 266 Nov 13, 2023
masnoe tarike se baal barhny k karobar ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.