عنوان: شوہر کی والدہ طلاق کا دعویٰ کرے اور میاں بیوی دونوں منکر ہوں تو کیا حکم ہے؟ (13360-No)

سوال: ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ ہمارے ایک رشتہ دار ہیں، ان کے گھر کا مسئلہ ہے کہ شوہر کی والدہ اپنے بیٹے پر الزام لگا رہی ہیں کہ بیٹے نے اپنی بیوی سے کہا ہے کہ اگر تو نے اپنی بیوی سے بات کی تو تجھے طلاق ہے، لیکن شوہر اس بات کا انکار کر رہا ہے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے اور بیوی بھی کہہ رہی ہے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی، اس صورتحال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر کی والدہ کے پاس دو گواہ نہ ہوں تو محض ان کے بیان پر تعلیقِ طلاق اور وقوعِ طلاق کا حکم نہیں ہوگا، البتہ اگر واقعی شوہر نے طلاق دے رکھی ہو تو دیانتاً طلاق واقع مانی جائے گی، لیکن قضاءً اور حکم کے اعتبار سے اس وقت تک طلاق کے وقوع کا حکم نہ ہوگا، جب تک کہ شوہر خود اقرار نہ کرے یا اس پر شرعی شہادت قائم ہوجائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں ساس کے پاس گواہ نہ ہونے کی صورت میں شوہر کا قول معتبر ہوگا اور طلاق کی تعلیق اور وقوع کا حکم نہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

شرح النووي على صحيح مسلم: (12/3، ط: دار احياء التراث العربي)

لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر وهذا الحديث قاعدة كبيرة من قواعد أحكام الشرع ففيه أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه بل يحتاج إلى بينة أو تصديق المدعى عليه فإن طلب يمين المدعى عليه فله ذلك.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 315 Nov 23, 2023
shohar ki walida talaq ka dawa kare or mian biwi dono munkar hon too kia hukum hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.