عنوان: دودھ کا کاروبار کرنے والی کمپنی کو پیسے یا بھینس دیکر کاروبار میں شریک ہونے کا حکم(13383-No)

سوال: ایک کمپنی بھینس کے دودھ کا کاروبار کرتی ہے، وہ لوگوں کو آفر کر رہی ہے کہ آپ ہماری کمپنی میں انویسٹ کریں یا ہمیں ایک جانور خرید کر دے دیں اور ماہانہ بنیادوں پر اپنے سرمائے سے آٹھ سے دس فیصد منافع حاصل کریں۔ ایک صحت مند جانور جس کی قیمت اس وقت چار لاکھ ہے۔ کمپنی کا بزنس موڈیول یہ ہے کہ وہ Nestle everyday اور اسی طرح کچھ بڑی کمپنی کو دودھ بیچتی ہے اور ماہانہ ایک جانور سے کمپنی کو پچاس سے پچپن ہزار روپے کا نفع حاصل ہوتا ہے اور وہ آپ کو ماہانہ بتیس سے چالیس ہزار کا نفع (سرمایہ کاری کے مطابق آٹھ سے دس فیصد) دیتے ہیں، اب اگر آپ کا خریدا ہوا جانور مر گیا تو چھ ماہ تک کمپنی آپ کو معاہدے کے مطابق منافع کی رقم ادا کرتی رہے گی اور چھ ماہ کے بعد آپ کو مرے ہوے جانور کی تیس فیصد رقم ادا کرنی ہوگی اور کمپنی ستر فیصد نقصان کی ذمے دار ہو گی۔ کیا ان شرائط کے ساتھ اس کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا صحیح ہے؟

جواب: 1) پوچھی گئی صورت میں کمپنی کو پیسے بطور سرمایہ دینے کی صورت میں یہ شراکت داری (partnership) کا معاملہ ہے، جوکہ اصولی طور پر جائز ہے، البتہ نفع کی تقسیم کا تعلق حقیقی نفع کے ساتھ ہونا ضروری ہے کہ ہر ماہ جتنا نفع آئے گا، اس کا اتنا فیصد دیا جائے گا، اور نقصان کی صورت میں شرعی اصول یہ ہے کہ ہر شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، نیز غیر عمیل شریک (Non working partner) کا نفع میں تناسب اس کے سرمایہ سے زیادہ نہیں ہوسکتا، اس تفصیل کو مدنظر رکھتے ہوئے شراکت داری کی جاسکتی ہے۔
2) اگر کمپنی کو بھینس خرید کر استعمال کیلئے دیدی جائے تو یہ اجارہ (کرایہ داری) کا معاملہ ہے، جس میں بھینس پر ملکیت اصل مالک کی ہی برقرار رہے گی، کرایہ پر لینے والے کو صرف اس کے منافع سے استفادہ کا حق حاصل ہوگا، اور جانور کے ہلاک ہونے کی صورت میں نقصان اصل مالک کا ہی کا شمار ہوگا، جبکہ پوچھی گئی صورت میں جانور ہلاک ہونے کے بعد کمپنی کا چھ ماہ تک مالک کو منافع ادا کرنے کی شرط لگانا، نیز 30 فیصد رقم کمپنی کو دینا اور کمپنی کے ذمہ 70 فیصد نقصان کا ذمہ ٹھرانے کی جو شرائط لگائی گئی ہیں، وہ شرعاً درست نہیں ہے، ایسے معاہدے سے اجتناب لازم ہے۔
اس کے جائز متبادل کے طور پر درج ذیل دو صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کی جاسکتی ہے:
١) کمپنی کے ساتھ متعین رقم کے عوض مخصوص مدت کیلئے جانور کرایہ پر دینے کا معاملہ کیا جائے، ایسی صورت میں کمپنی کو کاروبار میں چاہے نفع ہو یا نقصان، مالک کو طے شدہ کرایہ دینا پڑے گا، نیز جانور اگر کمپنی کی غفلت و کوتاہی کی وجہ سے ہلاک نہ ہوا ہو تو سارا نقصان اصل مالک ہی برداشت کرے گا، لیکن اگر کمپنی کی غفلت کوتاہی کی وجہ سے جانور ہلاک ہو جائے تو ایسی صورت میں کمپنی جانور کی موجودہ قیمت کی ذمہ دار ہوگی۔
۲) دوسری جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اجارہ کا معاملہ نہ کیا جائے، بلکہ کمپنی کو جانور دیتے وقت جانور کی قیمت لگا لی جائے اور اس رقم کو بطور سرمایہ شمار کیا جائے، اس صورت میں یہ معاملہ نفع و نقصان میں شراکت داری کا ہوگا، جس میں نفع و نقصان کے تقسیم کے سلسلے میں شق نمبر 1 کے تحت ذکر کردہ تفصیل کو مد نظر رکھ کر معاملہ کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (كتاب الشركة، 6/59، ط: سعيد)
منها: (شرائط جواز الشركة) أن يكون الربح معلوم القدر ... وأن يكون جزءً شائعًا في الجملة لا معينًا ... أما الشركة بالأموال فلها شروط، منها أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة ... وهي الدراهم والدنانير عنانًا كانت الشركة أو مفاوضة ... ولو كان من أحدهما دراهم ومن الآخر عروض فالحيلة في جوازه أن يبيع كل واحد منها نصف ماله بنصف دراهم صاحبه ويتقابضا ويخلطا جميعًا حتى تصير الدراهم بينهما والعروض بينهما ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز

درر الحكام شرح مجلة الأحكام: (696/1)
(المادة 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته.....ويفهم من ذكر عدم الضمان في هذه المادة مطلقا أنه إذا شرط في عقد الإجارة ضمان المأجور إذا تلف على هذا الوجه فلا يلزم ضمان ولا حكم للشرط المذكور؛ لأن اشتراط الضمان في الأمانات باطل
(المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها.

المعاییر الشرعیة: (الشركة والشركات الحديثية)
٢/١/٣- الاصل ان یكون راس مال الشركة موجودات نقدیة یمكن بها تحدید مقدار راس المال لتقریر نتیجة المشاركة من ربح او خسارة ومع ذلك یجوز باتفاق الشركاء الاسهام ﺑﻤﻮﺟﻮﺩﺍﺕ ﻏﻴﺮ نقدية (ﻋﺮﻭﺽ) ﺑﻌﺪ‬ ‫ﺗﻘﻮﻳﻤﻬﺎ بالنقد لمعرفة مقدار حصة الشریك

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


Print Full Screen Views: 135 Dec 04, 2023
doodh ka karobar karne wali company ko paise ya bhains dekar karobar mein shareek hone ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.