عنوان: "اگر دوسری شادی کی تو میری طرف سے میری طرف سے میری طرف سے نور (پہلی بیوی) کو طلاق" لکھنے سے طلاق کا حکم (13425-No)

سوال: میرے شوہر کی اپنے خالہ کی بیٹی کے ساتھ شادی تک بات پہنچ گئی، میں نے ضد کر کے ان سے کہا کہ مجھے لکھ کر دیں کہ اگر آپ نے اپنی خالہ کی بیٹی کے ساتھ یا دوسری شادی کی تو مجھے طلاق ہوگی، مجھے یقین تھا کہ اس طرح لکھنے سے میرے شوہر یہ قدم نہیں اٹھائے گیں، لیکن میری ضد کی وجہ سے انہوں نے یہ تحریر لکھ کر دی کہ اگر میں نے دوسری شادی کسی اور کے ساتھ کی تو میری طرف سے، میری طرف سے، میری طرف سے نور (میرا نام ہے) کو طلاق ہے۔ اس جملے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں شوہر کی طرف سے ان الفاظ كے لکھنے سے کہ "میں نے اگر دوسری شادی کسی اور کے ساتھ کی تو نور کو میری طرف سے میری طرف سے میری طرف سے طلاق (divorce) ہے" کہنے سے ایک طلاق دوسری شادی کرنے پر معلق ہوگئی ہے، لہٰذا اگر مذکورہ شخص دوسری شادی کرتا ہے تو آپ (نور) پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (420/1، ط: دار الفكر)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 192 Dec 13, 2023
"agar dousri shadi ki too mere taraf se mere taraf se mere taraf se noor pehle biwi ko talaq" likhne se talaq ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.