عنوان: بڑے بھائی کے ساتھ کاروبار میں مل کر کام کرنے کے بعد علیحدہ ہونے کی صورت میں کاروبار اور جائیداد کا حکم (13488-No)

سوال: مفتی صاحب! آج سے تقریباً پچیس تیس سال پہلے میرے بڑے بھائی نے اپنے پیسوں سے ایک تھیلیوں کا کاروبار شروع کیا تھا، کاروبار شروع کرنے کے تھوڑے عرصہ مجھے بھی اپنی دکان پر کام کے لیے بلالیا تھا، لیکن میری کوئی مزدوری طے نہیں ہوئی تھی، بس مجھے جتنی ضرورت ہوتی تھی، میں وہ لے لیتا تھا، میں نے اس کام کو چمکانے میں دن رات خوب محنت کی ہے، بھائی کو اس کا اعتراف بھی ہے، اس کام سے ہم نے کئی مال و جائیداد بنالی ہے، بھائی سے جب بھی کوئی پوچھتا تھا تو بھائی یہی کہتے تھے کہ یہ ہم دونوں بھائیوں کا آدھا آدھا ہے، یہانتکہ جب میرا رشتہ ہونے لگا تو میرے سسرال والوں کو بھی بھائی نے یہی کہا تھا کہ جو کچھ بھی ہے وہ ہم دونوں کا آدھا آدھا ہے، اس طرح ہم ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔
اب حالات کی وجہ سے ہم علیحدہ ہونا چارہے ہیں تو بھائی اپنی بات سے مکر رہے ہیں اور مجھے آدھا دینے کے لیے تیار نہیں ہورہے ہیں، بلکہ کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ بھی ہے، وہ سب میرا ہے اور کہی ہوئی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے۔
اس ضمن میں میرے آپ سے کچھ سوالات ہیں:
۱) کیا واقعی اس کاروبار سے بنے ہوئے مال و جائیداد میں میرا آدھا حصہ ہے یا نہیں؟ جبکہ خاندان کے کئی لوگ گواہ ہیں کہ بھائی سب کے سامنے یہ کہا کرتا تھا کہ جو کچھ بھی اس کاروبار سے بنا ہے، وہ ہم دونوں کا آدھا آدھا ہے۔
۲) کیا بھائی کی یہ بات صحیح ہے کہ کہی ہوئی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے؟
۳) بھائی نے ایک گھر مجھے ملکیتاً تصرف، قبضہ اور کاغذات کے ساتھ دیا تھا، کیا بھائی کا اس کی واپسی کا تقاضہ کرنے سے مجھے یہ واپس کرنا ہوگا؟
۴) بھائی نے یہ کام والد مرحوم کی پگڑی پر لی ہوئی دکان میں شروع کیا تھا اور ابھی تک اسی دکان میں کام ہورہا ہے تو کیا اس پگڑی کی دکان میں والد مرحوم کے دوسرے ورثاء کا بھی حصہ ہوگا؟ کیونکہ دوسرے ورثاء بھائی سے اس دکان کی تقسیم کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ براہ کرم میرے ان سوالات کے شریعت کی روشنی میں جوابات عنایت فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: 1-2) پوچھی گئی صورت میں آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ کاروبار میں عملی معاونت کی، جبکہ ان کے ساتھ کوئی معاملہ طے نہیں ہوا تھا، ایسی صورت میں آپ کی محنت معاونت اور تبرع شمار ہوگی، اصولی طور پر محض معاونت کی بناء پر آپ کا بھائی کے کاروبار اور اس سے خریدی گئی جائیداد میں کوئی ملکیتی حصہ نہیں ہے۔
جہاں تک اس بات تعلق ہے کہ بھائی نے زبانی کلامی کہا ہوا تھا کہ کاروبار وغیرہ ہمارا آدھا آدھا ہے، بھائی کو اپنی کہی ہوئی بات پر عمل کرنا چاہیے، لیکن شرعی طور پر محض زبانی کہنے کی وجہ سے دوسرے بھائی کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی، کیونکہ اس کی حیثیت ہدیہ (gift) کی ہے اور ہدیہ میں دی گئی چیز کا جب تک اگلے بندے (جس کو ہدیہ دیا جارہا ہو) کو قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار نہ دیا جائے، تب تک ملکیت ثابت نہیں ہوتی، لہذا محض زبانی کلامی کہنے کی وجہ سے چھوٹا بھائی کاروبار اور جائیداد میں آدھے حصہ کا مالک نہیں ہوگا، تاہم اب الگ ہونے کے وقت بڑے بھائی کو بطور احسان کچھ حصہ اپنے چھوٹے بھائی کو دینا چاہیے، تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو۔
3) بھائی نے جو گھر آپ کی ملکیت اور قبضہ میں دیدیا تھا، اس پر شرعاً آپ کی ملکیت ثابت ہوجائے گی، اب بڑا بھائی اس کی واپسی آپ سے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
4) پگڑی کی صورت واضح نہیں ہے، پگڑی پر لینے کی کیا صورت تھی؟ اس وقت کیا معاملہ طے ہوا تھا؟ مکمل وضاحت کے بعد اس کا جواب دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

شرح المجلة لسلیم رستم باز: (المادۃ: 1398، 741/2)
"إذا عمل رجل في صنعۃ ہو وابنہ الذي في عیالہ فجمیع الکسب لذلک الرجل، وولدہ یعد معینا لہ، فیہ قیدان احترازیان کما تشعر عبارۃ المتن، الأول: أن یکون الابن في عیال الأب، الثاني: أن یعملا معا في صنعۃ واحدۃ إذ لو کان لکل منہما صنعۃ یعمل فیہا وحدہ فربحہ لہ".

تنقيح الفتاوى الحامدية: (420/4)
"في الفتاوى الخيرية: سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته؟ أجاب: هي للابن، تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه . وأما قول علمائنا "أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله" فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط: منها:
(١) اتحاد الصنعة
(٢) وعدم مال سابق لهما
(٣) وكون الابن في عيال أبيه، فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب، وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم " لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع"، فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اه. ...... وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله: إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه، وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه، وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه، وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه، وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال، وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثاً بيقين، والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته.

الدر المختار: (689/5، ط: سعید)
بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة

شرح المجلة: (رقم المادۃ: 837)
تنعقد الہبة بالإیجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل؛ لأنہا من التبرعات، والتبرع لا یتم إلا بالقبض

الھندیة: (378/4، ط: رشیدیة)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 237 Dec 28, 2023
bare bhai ke sath karobar mein mil kar kaam karne ke bad alehda hone ki soorat mein karobar or jaidad ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.