عنوان: نکاح میں طے شرائط کو پورا نہ کرنے کا حکم(14557-No)

سوال: میں قمرالدین اپنی دو بیٹیاں عبد الحنان کے بیٹوں کے ساتھ رشتہ کروانے سے پہلے چند شرائط رکھیں تھی اور ان میں سب سے اہم اور پہلی بنیادی شرط یہ تھی کہ میری دو بیٹیاں شادی کے بعد 6 سالہ عالمہ کا کورس مکمل کریں گی تو اس پر ان سب نے یہ شرط قبول کی تھی اور پھر کچھ عرصہ 6 سالہ کورس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کی اور میری دونوں بچیاں میرے گھر میں ہی ایک معلمہ کے پاس پڑھنے کے لئے روزانہ آتی رہیں لیکن اب میری بیٹی کے ایک شوہر نے بہانا بنانا شروع کیا ہے اور کہتا ہے کہ اب میں شوہر ہوں اور میرا حق اور میری مرضی ہے میں نہیں چھوڑوں گا جبکہ شادی سے پہلے اس شرط کو قبول کیا تھا اور ان بنیادی شرائط پر شادی ہوئی تھی ورنہ تین سال تک منت وسماجت کرتے رہے میں ان کو رشتہ دینے کے لئے ہرگز بھی تیار نہیں تھا اور اب اس کے شوہر نے میری بیٹی کا آنا جانا بھی میرے گھر سے بند کردیا ہے جبکہ میرے گھر اور ان کے گھر کی دیوار ایک ہی لگتی ہے اور بیچ میں کھڑکی بھی ہے
اور اب ایسے شخص کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے جو شادی سے پہلے شرائط کو قبول کرے اور شادی کے بعد کچھ دن کے لئے عمل بھی کرے پھر اس کے بعد ان شرائط کی خلاف ورزی کرے؟

جواب: واضح رہے کہ نکاح میں کوئی بھی ایسی جائز شرط لگانا جائز ہے جس سے نکاح سے ثابت ہونے والے میاں بیوی کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ نیز اگر فریقین ایسی شرط پر متفق ہوجائیں تو اس شرط کی حیثیت ایک وعدہ کی سی ہوتی ہے، لہٰذا دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ایسی شرط کو بہرحال پورا کیا جائے۔ تاہم اگر شرط ایسی ہو جس سے امورِ خانہ داری، شوہر کے حقوق، گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت وغیرہ متاثر ہوں تو شوہر پر ایسی شرط کو پورا کرنا لازم نہیں ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے شادی سے پہلے شرط رکھی تھی کہ "آپ کی بیٹیاں شادی کے بعد عالمہ کا کورس مکمل کریں گی" اگر اس شرط کو فریقین نے قبول کیا تھا تو اس شرط کے پورا کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلنے کی وجہ سے اوپر ذکر کردہ امور متاثر نہ ہوتے ہوں تو شوہر پر اس شرط کو پورا کرنا دیانتاً لازم ہے، ایسی صورت میں اگر شوہر بلا عذر اس شرط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے شرعی طور شرط اور وعدہ کی خلاف ورزی کرنے کا گناہ ہوگا، لیکن بہرحال ان معاملات میں آپ کو سختی کے بجائے نرمی سے معاملات کو سلجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ صلح صفائی کا رویہ بہت بہتر ہے، اور بہتر نتائج کا حامل ہوتا ہے۔
اور اگر اس سے شوہر کے حقوق یا لڑکی کے گھریلو معاملات اور حقوق متاثر ہوتے ہوں تو ایسی صورت میں شوہر پر اس شرط کو پورا کرنا لازم نہیں ہے، اور وہ اپنی بیوی کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے گھر روک سکتا ہے، کیونکہ چھ سالہ عالمہ کا کورس فرض یا واجب نہیں ہے، لیکن شوہر کے حقوق،بچوں کی تربیت اور صلہ رحمی کرنا لازمی امور ہیں، البتہ لڑکی کو اس کے ماں باپ کے گھر جانے سے بالکلیہ ہی روک دینا درست عمل نہیں ہے، کیونکہ اپنے ماں باپ سے ملنا لڑکی کا بنیادی حق ہے، لہذا شوہر پر لازم ہے کہ وہ شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے لڑکی کو اپنے والدین کے گھر جانے سے نہ روکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (النساء، الآية: 128)
{وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا o

و قوله تعالی: (المائدة، الآية: 1)
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ... الخ

تفسير الجلالين: (ص: 135، دار الحديث، القاهرة)
{يأيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود} العهود المؤكدة التي بينكم وبين الله والناس.

صحيح البخاري: (رقم الحديث: 2721، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال: حدثني يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج».

العرف الشذي شرح سنن الترمذي: (382/2، ط: دار التراث العربي)
الشروط التي لا تنافي النكاح جائزة ويوفى ديانة، ولا تلزم قضاء عند أبي حنيفة رحمه الله.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 202 Jan 11, 2024
nikah mein tay sharait ko pora na karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.