عنوان: خفیہ نکاح کرنے سے نکاح کے حقوق ثابت ہونے کا حکم (15778-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کوئی مرد اور عورت دو گواہوں کی موجودگی میں خفیہ زبانی شرعی نکاح کرتے ہیں تو کیا عورت کے ذمے شوہر کے حقوق ادا کرنے لازم ہوں گے، جبکہ شوہر نکاح کو ظاہر بھی نہ کرنا چاہے؟

جواب: اگر ولی کی اجازت کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے خفیہ طور پر نکاح کرلیا جائے تو اس سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے اور نکاح سے متعلقہ حقوق ثابت ہو جاتے ہیں، البتہ نکاح کو ظاہر کرنا اور علی الاعلان نکاح کرنا مستحب ہے، احادیث مبارکہ میں بھی اس کی ترغیب آئی ہے، لہذا نکاح کو چھپانا نہیں چاہیے، نیز قانونی طور پر مشکلات سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ صرف زبانی نکاح پر اکتفاء نہ کیا جائے، بلکہ اسے تحریری طور پر رجسٹر بھی کرالیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذي: (رقم الحديث: 1089، ط: دار الغرب الإسلامي)
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعلنوا هذا النكاح ‌واجعلوه ‌في ‌المساجد»، ‌واضربوا عليه بالدفوف.

البحر الرائق: (87/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي المجتبى يستحب أن يكون النكاح ظاهرا، وأن يكون قبله خطبة، وأن يكون عقده في يوم الجمعة، وأن يتولى عقده ولي رشيد، وأن يكون بشهود عدول منها.

و فيه: (94/3)
ولا يشترط الإعلان مع الشهود لما في التبيين أن النكاح بحضور الشاهدين يخرج عن أن يكون سرا ويحصل بحضورهما الإعلان. اه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 508 Mar 01, 2024
khufiya nikah karne se nikah ke huqooq sabit hone ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.