عنوان: لے پالک بچے سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا (1609-No)

سوال: مفتی صاحب! ہماری شادی کو دس سال ہوگئے تھے، لیکن میرے یہاں ولادت نہیں ہو رہی تھی، تو میں اور میری بیوی نے ڈیڑھ سال کا بچہ گود لیا تھا، ایک سال کے بعد ہمارے یہاں بچی کی ولادت ہوئی، اب دونوں بالغ ہوچکے ہیں، اور وہ لڑکا چاہتا ہے کہ میری بیٹی سے نکاح کرے، کیا لےپالک سے میری بیٹی کا نکاح جائز ہے؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر آپ نے گود لئے ہوئے بچے کو دو سال کی عمر سے پہلے پہلے اپنا دودھ پلایا تھا، تو آپ اس کی رضاعی ماں بن چکی ہیں، اور آپ کی بیٹی اس کی رضاعی بہن بن چکی ہے، اور رضاعی بہن بھائی کا آپس میں نکاح جائز نہیں ہے، اور اگر آپ نے اس بچے کو دودھ نہیں پلایا تھا، تو اس لڑکے کا نکاح آپ کی بیٹی سے جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیۃ: (343/1، ط: دار الفکر)

يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 779 May 28, 2019
lay palak bachy say apni beti ka nikkah karna , Marrying one's daughter to a adopted child

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.