سوال:
حضرت ! رہنمائی فرمائیں کہ کیا کوئی خاتون اعتکاف کی حالت میں کمرے سے باہر افطاری کے برتن رکھنے آسکتی ہے؟ آگر ایسا کر چکی ہے تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ عورت کے اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ گھر میں جس جگہ نماز پڑھتی ہو، اس جگہ یا کسی اور جگہ کو اعتکاف کیلئے مخصوص کرلے اور حاجات طبعیہ و شرعیہ (پیشاب،پاخانہ،غسل جنابت)کے علاوہ اپنی جگہ سے باہر نہ نکلے، جب حاجت کیلئے نکلے تو حاجت پوری کرنے کے بعد فورا اپنی جگہ واپس آجائے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر گھر میں خاتون اکیلی ہو تو اعتکاف کے لیے مختص جگہ سے باہر نکل کر برتن رکھ سکتی ہے اور اگر گھر میں اور کوئی ہو تو پھر برتن رکھنے کے لیے نکلنا جائز نہیں ہے۔
نیز اگر اعتکاف ٹوٹ گیا ہے تو جس دن کا اِعتکاف ٹوٹا ہو، صرف اسی ایک دن کی قضا لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیة: (211/1، ط: رشیدیة)
والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی