عنوان: غسل تبرید(101639-No)

سوال: حضرت ! اگر پیشاب خانے سے مطمئن نہیں ہو اور نا پاکی کا ڈر ہو اور غسل ٹھنڈک کے لیے نہیں، بلکہ پسینے کی بدبو اور جسم میں عجیب کفیت محسوس ہونے پر غسل کے فرائض ادا کیے بغیر غسل کر لے اور پھر وضو خانے میں وضو کر لے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟ اور یہ عمل پانچ دن بعد کیا ہو اور پانچ دن تک برداشت کا دامن پکڑ کر رکھا ہو تو کیا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟ اور اسی جسم میں بدبو اور کیفیت سے عبادت میں دل نہیں لگتا ہو، ان معاملات کو دیکھتے ہوئے،اکابر کیا فرماتے ہیں کہ اگر اس نے یہ عمل کر لیا ہے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟ حضرت! رہنمائی فرمادیں اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

جواب: اعتکاف کے دوران معتکف کا فرض غسل کےعلاوہ غسل جمعہ یا ٹھنڈک کے لئے غسل کی خاطر جانا جائز نہیں ہے، البتہ غسل کر نے کی ایک صورت ہے کہ مسجد میں ٹب رکھ کر اس میں غسل کرلے یا مسجد کے کنارے پر اس طرح بیٹھے کہ استعمال ہونے والا پانی مسجد میں نہ گرے.

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی الدر المختار مع رد المحتار:

(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا أما النفل فله الخروج لأنه منه لا مبطل كما مر (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر

(قوله ولا يمكنه إلخ) فلو أمكنه من غير أن يتلوث المسجد فلا بأس به بدائع أي بأن كان فيه بركة ماء أو موضع معد للطهارة أو اغتسل في إناء بحيث لا يصيب المسجد الماء المستعمل، قال في البدائع: فإن كان بحيث يتلوث بالماء المستعمل يمنع منه لأن تنظيف المسجد واجب اه

(ج: 2، ص: 444، ط: دار الفکر)

وکذا فی فتاوی عثمانی:

(ج: 2، ص: 195، ط: مکتبۃ معارف القرآن)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 175
ghusl e tabreed

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.