عنوان: بیوی کے لیے شوہر کا جھوٹا دودھ پینے کا حکم (101657-No)

سوال: سوال یہ ہے کہ میرے شوہر کی یہ عادت ہے کہ وہ روزانہ سونے سے پہلے ایک کپ دودھ پیتے ہیں، ایک دفعہ انہوں نے آدھا کپ بچا دیا، تو میں نے ان کا بچا ہوا جھوٹا دودھ پی لیا، شوہر کا جھوٹا دودھ پینے سے رضاعت ثابت تو نہیں ہوتی ہے؟

جواب: رضاعت کا تعلق عورت کے دودھ کے ساتھ ہے، جب کہ کوئی بچہ یا بچی عورت کا دودھ مدتِ رضاعت میں پی لے، بیوی اگر شوہر کا بچا ہوا جھوٹا دودھ پی لے، تو اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

باب الرضاع (هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) فتح وبه يفتى كما في تصحيح القدوري عن العون۔

(ج: 3، ص: 209، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 327

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Fosterage

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com